باڑہ: ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ میں قوم شلوبر کے دو خاندانوں کے درمیان گزشتہ چار سال سے جاری تنازع جرگہ مشران اور قومی عمائدین کی مسلسل کوششوں سے ختم ہوگیا، جس کے بعد دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کو معاف کرتے ہوئے آئندہ بھائیوں کی طرح مل جل کر رہنے کا عہد کیا۔
تفصیلات کے مطابق تقریباً چار سال قبل دونوں خاندانوں کے درمیان زمین کے تنازع پر فائرنگ کے نتیجے میں مرحوم ستنا گل کے خاندان سے تعلق رکھنے والا نوجوان رحمت جاں بحق ہوگیا تھا، جس کے بعد دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی اور دشمنی چلی آ رہی تھی۔
قومی مشران اور جرگہ ممبران کی کئی سالہ مسلسل اور انتھک کوششوں کے بعد حاجی قمرگل خاندان نے آفریدی قومی مشران اور شلوبر قومی مشران کے ہمراہ مرحوم حاجی ستنا گل کے گھر جا کر ننواتے کی، جہاں جرگے کی کوششوں سے دونوں خاندانوں کے درمیان صلح کرادی گئی۔
اس موقع پر دونوں خاندانوں کے مشران نے قرآنِ پاک پر حلف اٹھاتے ہوئے آئندہ بھائیوں کی طرح مل جل کر رہنے کا عہد کیا اور ایک دوسرے کو معاف کر دیا۔ حاجی قمرگل کے خاندان کی جانب سے مرحوم ستنا گل کے خاندان سے باقاعدہ ننواتے بھی کی گئی۔
ننواتے کی تقریب میں قوم شلوبر کے سینکڑوں افراد سمیت باڑہ سب ڈویژن کی مختلف سیاسی و سماجی شخصیات، قومی مشران اور عمائدین نے شرکت کی۔
صلح کرانے میں جرگہ ممبران اور جماعت اسلامی کے رہنماؤں الحاج فقیر محمد، محمد یونس، حاجی صاحب اور فضل منان نے اہم کردار ادا کیا۔ ان کی کئی سالہ کوششوں کے نتیجے میں دونوں خاندانوں کے درمیان رنجشیں ختم ہوئیں اور فریقین بغلگیر ہوکر آئندہ بھائیوں کی طرح رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے بڑے بھائی نوید آفریدی، چچا حاجی نواب آفریدی، جماعت اسلامی باڑہ کے نائب امیر خان ولی آفریدی، باڑہ امیر محمد خان، ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کے بھائی نثار خان، شلوبر قومی کونسل کے چیئرمین لعل نبی آفریدی، قومی مشر حاجی کپتان، قومی مشر حاجی مجیب الرحمٰن، پی ٹی ایم کے ڈاکٹر شعور آفریدی، نقیب اللہ اور مقیب اللہ آفریدی، مسلم لیگ (ن) کے ضلعی صدر اصغر خان، عوامی نیشنل پارٹی باڑہ کے صدر حاجی عبدالواحد، صدیق چراغ آفریدی، لعل وزیر، شاہ گل ماما سمیت دیگر قومی مشران، سیاسی و سماجی شخصیات اور بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر قومی مشران نے جرگہ ممبران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معافی، برداشت اور باہمی اتفاق ہی پائیدار امن، بھائی چارے اور معاشرتی استحکام کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی معاشرے میں جرگہ ایک اہم روایتی نظام ہے، جو باہمی اختلافات کو گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔