عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو پڑوسی صوبوں سے نہیں بلکہ ایسی سوچ سے خطرہ ہے جو ملک کے مختلف حصوں کے درمیان تفریق پیدا کرے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک کے مقابلے میں پڑوسی صوبوں سے زیادہ خطرہ ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’’افسوس کی بات ہے کہ مجھے جو تھریٹ ہے، وہ پڑوسی ممالک سے کم اور پڑوسی صوبوں سے زیادہ ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پڑوسی صوبوں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے۔
مریم نواز کے اس بیان پر سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تنقید کی جا رہی ہے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات صوبوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے اور قومی یکجہتی کو متاثر کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
ایمل ولی خان نے اپنے ردعمل میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ پاکستان کی دیگر قومیں جن خوفناک حالات سے گزر رہی ہیں، وہ حالات کیسے پیدا ہوئے؟
اے این پی کے مرکزی صدر نے سوال اٹھایا کہ دہشت گردی کا آغاز کس نے کیا، دہشت گردوں کے کیمپ کس نے قائم کیے، انہیں تربیت کس نے دی اور افغانستان و کشمیر میں ان عناصر کو کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا؟
انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں جاری اس صورتحال کی سرپرستی کون کر رہا ہے، اس سوال کا جواب بھی سامنے آنا چاہیے۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ کے پاس ان سوالات کے جوابات نہیں ہیں تو میرے پاس ان کے جوابات موجود ہیں۔ پھر مجھے صرف کچھ ایسے بہادر لوگوں کی ضرورت ہوگی جو ان جوابات کو سننے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو کسی ایک صوبے یا قوم سے جوڑنے کے بجائے اس کے حقیقی اسباب اور ذمہ داروں پر بات ہونی چاہیے۔
