پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیرِ صدارت سرکاری محکموں کی جانب سے اشیاء کی خریداری پر ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کی کٹوتی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاق اور صوبے کے درمیان ٹیکس کٹوتی کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مشیرِ خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ، فنانس ڈیپارٹمنٹ، خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی (کیپرا)، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، لوکل گورنمنٹ، ایف بی آر، اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ محکموں کے حکام نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران سرکاری محکموں کی جانب سے اشیاء کی خریداری پر ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہ ہونے کے معاملے، قانونی و مالیاتی امور، موجودہ طریقہ کار اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ایف بی آر حکام نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے میں ودہولڈنگ سیلز ٹیکس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنا صوبائی ٹیکس وصول کرتی ہے، تاہم وفاقی ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جا رہی۔

چیف کمشنر ایف بی آر محمد تقی قریشی نے بتایا کہ صوبائی حکومت اپنے ملازمین سے ٹیکس کی کٹوتی کرتی ہے، تاہم ٹھیکیداروں سے ون ففتھ ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جاتی۔ ان کے مطابق چیف سیکرٹری آفس اور صوبائی محکموں کو معاملے سے آگاہ کیا گیا تھا، تاہم اس حوالے سے عملی پیش رفت نہ ہوسکی۔

ایف بی آر حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ افسران اصولی طور پر ایف بی آر کے مؤقف سے متفق ہیں، تاہم ٹینڈرنگ کے مرحلے پر ٹیکس کی کٹوتی نہیں کی جاتی۔

مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اجلاس کو بتایا کہ ایم آر ایس میں لیبر کاسٹ، ٹیکسز اور دیگر ضروری اخراجات شامل ہوتے ہیں، جبکہ اشیاء کی قیمتوں کے تعین میں مارکیٹ ریٹ کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

دوسری جانب کیپرا حکام نے کہا کہ ودہولڈنگ سیلز ٹیکس کا معاملہ نیشنل ٹیکس کونسل کے دائرہ کار سے متعلق ہے۔ ایف بی آر کے مطالبے پر عمل درآمد کی صورت میں خیبرپختونخوا کے اخراجات بڑھنے اور آمدن کم ہونے کا خدشہ ہے۔

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ہدایت کی کہ صوبائی حکومت کے متعلقہ محکمے ایف بی آر حکام کے ساتھ بیٹھ کر معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی ادائیگی ذمہ دار قوم کی نشانی اور ملکی ترقی کا اہم جزو ہے، جبکہ ٹیکس چوری ملک اور عوام کے ساتھ زیادتی ہے جس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

گورنر نے ایف بی آر اور محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سیلز ٹیکس کے معاملے کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے اور وفاق و صوبے کے درمیان موجود غلط فہمیوں کو دور کرکے قابلِ عمل حل نکالا جائے۔

چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ نے کہا کہ وفاق ٹیکس وصول کرکے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کا حصہ واپس کرتا ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر حکام کے ساتھ بیٹھ کر افہام و تفہیم سے ودہولڈنگ ٹیکس کا معاملہ حل کیا جائے گا۔