جمرود: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے جدید انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، تاریخی بابِ خیبر بیوٹیفیکیشن منصوبے اور جمرود سول اسپتال میں صحت کارڈ سہولت کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں فرسودہ اور آؤٹ ڈیٹ نظامِ تعلیم کا خاتمہ کرکے جدید اور ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو محض ڈگریاں نہیں بلکہ عملی مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے جمرود میں قائم اسٹیٹ آف دی آرٹ انسٹیٹیوٹ آف اپلائیڈ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کو جدید سہولیات سے آراستہ ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے قیام سے مقامی طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم بے روزگاروں کی فوج نہیں بنائیں گے بلکہ نوجوانوں کو ہنرمند اور بااختیار بنائیں گے۔”
وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ “اب ہمیں ‘ب’ سے بندوق نہیں بلکہ ‘ق’ سے قلم پڑھنا ہے”، کیونکہ ترقی کا راستہ تعلیم، امن اور شعور سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ قبائلی اضلاع کے تمام کالجوں کو ٹرانسپورٹ فراہم کی جائے گی، جبکہ ضلع خیبر میں جلد کیڈٹ کالج اور نرسنگ کالج قائم کیے جائیں گے۔ مزید برآں، مرحلہ وار تمام قبائلی اضلاع میں کیڈٹ اور نرسنگ کالجز کے قیام کا منصوبہ بھی زیرِ عمل ہے۔
بابِ خیبر بیوٹیفیکیشن منصوبے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد علاقے کی تاریخی حیثیت کو اجاگر کرنا اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ جمرود سول اسپتال میں صحت کارڈ سہولت کے افتتاح کو انہوں نے عوام کے لیے بڑی سہولت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب مستحق مریضوں کو مفت اور معیاری علاج کی سہولت میسر آئے گی۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا کہ قبائلی اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج پر کام جاری ہے، جبکہ پشاور سمیت مختلف علاقوں میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبے، جن میں انڈر پاسز اور سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں، تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
سیاسی امور پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو مزید تجربہ گاہ نہیں بننے دیا جائے گا اور عوامی مفاد کے خلاف کوئی پالیسی قبول نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ متاثرینِ آپریشن کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کی بحالی و ریلیف کے لیے فنڈز جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بند کمروں میں بننے والی پالیسیاں قابل قبول نہیں ہوں گی اور تمام فیصلے عوامی مفاد کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں گے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ “نیشنل میڈیا، نیشنل کم اور مسلم لیگ (ن) کا میڈیا زیادہ بن گیا ہے۔” انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیشنل میڈیا تیراہ کے متاثرین کی مشکلات اجاگر کرنے کے بجائے ان کے لیے منظور شدہ فنڈز کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل میڈیا تیراہ کے مسائل پر توجہ نہیں دیتا، جبکہ لاہور کی تفریحی سرگرمیوں کو نمایاں طور پر نشر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل میڈیا پر جتنا حق لاہور کے عوام کا ہے، اتنا ہی خیبرپختونخوا کے عوام کا بھی ہے، اور اگر حقائق نہیں دکھائے جا سکتے تو کم از کم انہیں مسخ نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے قائد عمران خان اور بشریٰ بی بی کو ناحق قید رکھا گیا ہے اور انہیں ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی کوشش بھی کامیاب نہیں ہو سکی۔ عمران خان سے ملاقات کے لیے ہر آئینی و قانونی راستہ اختیار کیا گیا، تاہم کوئی ریلیف نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا ان کا آئینی و قانونی حق ہے اور وہ یہ حق استعمال کریں گے۔
آخر میں وزیراعلیٰ نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم اور شعور کے فروغ کے لیے آگے آئیں اور صوبے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترقی عوام کا بنیادی حق ہے اور صوبائی حکومت خیبرپختونخوا کو جدید اور خوشحال صوبہ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
