چترال: خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کے جنوبی حصے میں ہندوکش کے بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان واقع بمبوریت، رمبور اور بیریر کی تین وادیاں مجموعی طور پر کیلاش وادی کہلاتی ہیں۔ یہ خطہ صرف قدرتی حسن ہی نہیں بلکہ صدیوں پرانی تہذیب، ثقافت، روایات، مذہبی تصورات، زبان، لباس، موسیقی اور تہواروں کے باعث دنیا بھر میں ایک منفرد شناخت رکھتا ہے۔

کیلاش وادی محض کوئی سیاحتی مقام یا مصنوعی ثقافتی پارک نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافتی منظرنامہ ہے، جہاں آج بھی مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی، زراعت، مویشی پالنا، مذہبی رسومات، تہوار اور اجتماعی روایات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔

کیلاش ثقافت کی جڑیں یہاں کے معاشرتی نظام، قدرت سے گہرے تعلق، مذہبی تصورات اور صدیوں پر محیط اجتماعی یادداشت میں پیوست ہیں۔ کیلاش کے اہم تہوار بھی موسموں، زراعت اور چرواہی زندگی کے سالانہ چکر سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

قدرتی حسن اور روایتی معیشت

کیلاش وادی کو قدرت نے غیر معمولی حسن عطا کر رکھا ہے۔ بلند پہاڑوں کے درمیان سرسبز ڈھلوانیں، گھنے جنگلات، چشمے، آبشاریں، دریائی نالے اور زرخیز زمین اس خطے کے قدرتی منظرنامے کو منفرد بناتے ہیں۔

مقامی معیشت میں زراعت اور باغبانی کا اہم کردار ہے۔ گندم، جو اور مکئی جیسی فصلوں کے ساتھ خوبانی، اخروٹ، شہتوت اور دیگر پھلوں کے باغات مقامی لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ان کی آمدن کا بھی ذریعہ ہیں۔ مویشی پالنا بھی یہاں کی روایتی زندگی کا اہم حصہ ہے۔

تاہم کیلاش کی اصل دولت اس کے پہاڑوں، دریاؤں اور باغات سے کہیں بڑھ کر اس کی زندہ تہذیبی شناخت ہے۔ اسی لیے کیلاش کو صرف دیکھنے کی نہیں بلکہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

مقامی انسان ہی بہترین رہنما

کسی علاقے کو سمجھنے کے لیے وہاں کے مقامی باشندے سے بہتر رہنما شاید ہی کوئی ہو۔ باڑہ پریس کلب کے مطالعاتی دورے کے دوران مقامی صحافی اور سوشل ایکٹوسٹ رحمت نے یہی کردار ادا کیا۔

رحمت پیشے کے اعتبار سے صحافی ہیں اور کیلاش کے علاقے، یہاں کے لوگوں، سماجی حالات، ثقافت اور مقامی مسائل سے گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ دو روزہ مطالعاتی دورے کے دوران انہوں نے صحافیوں کے لیے مقامی رہنما کے ساتھ ساتھ معلومات کے ایک اہم ذریعے کا کردار بھی ادا کیا۔

وادی کے مختلف تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مقامات کے دورے کے دوران رحمت ہر مقام کے بارے میں تفصیلات فراہم کرتے رہے اور صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیتے رہے۔

میں ذاتی طور پر کئی مرتبہ کیلاش جا چکا ہوں، لیکن رحمت کے ساتھ گزارے گئے ان دو دنوں میں اس وادی کو جس انداز سے دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا موقع ملا، وہ میرے سابقہ سفروں سے بالکل مختلف تجربہ تھا۔

بمبوریت میں تاریخی اور ثقافتی مقامات کا دورہ

مطالعاتی دورے کے پہلے روز رحمت نے باڑہ پریس کلب کے وفد کو بمبوریت کے باتریک گاؤں کا دورہ کرایا، جہاں کیلاش کے مذہبی تہواروں سے متعلق مختلف مقامات اور تاریخی مذہبی عمارتوں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئیں۔

وفد نے عجب گھر سمیت مختلف تاریخی اور ثقافتی مقامات کا مشاہدہ کیا، جبکہ محکمہ جنگلات کے ڈائریکٹوریٹ کے نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس  مرکز میں مقامی سطح پر تیار کی جانے والی مختلف اشیاء کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔

مرکز میں اخروٹ، خوبانی اور دیگر پھلوں کے بیجوں سے تیار کردہ تیل، خشک میوہ جات اور دیگر مقامی مصنوعات شامل تھیں۔ صحافیوں نے مقامی مصنوعات خرید کر نہ صرف علاقے کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالا بلکہ مقامی ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی بھی کی۔

وفد کو قریبی پارک، تاریخی قبرستان اور کیلاش کے روایتی طرزِ تعمیر کے گھروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔

خواتین کی دستکاری اور چھوٹے کاروبار

مطالعاتی دورے کا ایک اہم پہلو مقامی خواتین کے چھوٹے کاروبار اور دستکاریوں کا مشاہدہ بھی تھا۔ خواتین اپنے ہاتھوں سے مختلف اشیاء تیار کرکے انہیں فروخت کرتی ہیں۔

ان کی تیار کردہ مصنوعات کی خریداری محض کاروباری لین دین نہیں بلکہ خواتین کی محنت، ہنر، حوصلے اور خود انحصاری کی حوصلہ افزائی بھی ہے۔

مقامی صحافت کا اہم کردار

دورے کا ایک یادگار مرحلہ رحمت کی قائم کردہ اشپاتا نیوز کے دفتر کا دورہ تھا۔ محدود وسائل اور مختلف مشکلات کے باوجود قائم کیا گیا یہ ادارہ مقامی صحافت کے ساتھ ساتھ بیرونِ علاقے سے آنے والے صحافیوں کی رہنمائی اور معاونت میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

کیلاش جیسے حساس اور منفرد ثقافتی خطے میں مقامی صحافت کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے، کیونکہ مقامی صحافی نہ صرف علاقے کے مسائل سے واقف ہوتے ہیں بلکہ انہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کسی ثقافت، مذہبی روایت اور مقامی حساسیت کو کس طرح ذمہ داری کے ساتھ رپورٹ کیا جائے۔

رمبور میں کیلاش زندگی کا ایک مختلف رخ

مطالعاتی دورے کے دوسرے روز طویل اور دشوار سفر کے بعد وفد دوپہر کے وقت رمبور وادی پہنچا، جہاں کیلاش کی زندگی کا ایک مختلف رخ دیکھنے کو ملا۔

رمبور میں روایتی طرزِ زندگی کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کے اثرات بھی واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سیاحت نے مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور معاشی مواقع پیدا کیے ہیں، تاہم اس کے ساتھ کئی نئے سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔

سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، مقامی ثقافت پر ممکنہ اثرات، غیر ذمہ دارانہ معلومات اور مواد کا پھیلاؤ، مقامی آبادی کی رازداری اور تحفظ جبکہ قدرتی ماحول پر بڑھتا ہوا دباؤ ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

رحمت کے مطابق کیلاش وادی کو موجودہ دور میں مختلف چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں موسمیاتی تبدیلی، سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال اور مناسب رہنمائی کے بغیر سیاحوں کی آمد نمایاں ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی اور سوشل میڈیا کے اثرات

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پہاڑی علاقوں میں رہنے والی آبادی کے لیے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ موسموں میں تبدیلی، پانی کے وسائل پر دباؤ اور قدرتی ماحول میں تبدیلی براہِ راست مقامی زراعت، باغبانی اور روزمرہ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا نے کیلاش کو دنیا کے سامنے مزید نمایاں کیا ہے، لیکن ثقافتی حساسیت کو نظر انداز کرتے ہوئے تیار کیا جانے والا غیر ذمہ دارانہ مواد اور ویڈیوز مقامی آبادی کے لیے مشکلات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ کیلاش کو صرف ایک سیاحتی مقام کے طور پر نہیں بلکہ ایک زندہ ثقافت اور حساس انسانی معاشرے کے طور پر دیکھا جائے۔

پائیدار سیاحت وقت کی ضرورت

کیلاش وادی کے لیے سیاحت بلاشبہ معاشی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ مقامی ہوٹل، ٹرانسپورٹ، دستکاری، خشک میوہ جات، زرعی مصنوعات اور دیگر کاروبار سیاحوں کی آمد سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

تاہم پائیدار سیاحت کے لیے ضروری ہے کہ سیاح مقامی روایات، مذہبی مقامات، نجی زندگی اور قدرتی ماحول کا احترام کریں۔

مقامی لوگوں کی شمولیت کے بغیر کیلاش کے مستقبل کی منصوبہ بندی مکمل نہیں ہو سکتی۔ یہاں کے باشندوں کو نہ صرف سیاحت سے معاشی فائدہ ملنا چاہیے بلکہ اپنی ثقافتی شناخت کے تحفظ اور مستقبل کے فیصلوں میں بھی مؤثر کردار حاصل ہونا چاہیے۔

دو روزہ مطالعاتی دورہ، ایک بامعنی تجربہ

باڑہ پریس کلب کے صحافیوں کا یہ مطالعاتی دورہ محض سیر و تفریح نہیں تھا بلکہ ایک ایسی ثقافت کو قریب سے سمجھنے کی کوشش تھا جو صدیوں سے اپنے منفرد تشخص کے ساتھ زندہ ہے۔

رحمت کی مقامی رہنمائی نے اس سفر کو مزید بامعنی بنایا۔ ان کی صحافت، تحقیق، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے آگاہی اور سیاسی و سماجی شعور کے لیے سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ مقامی صحافی اپنے علاقے میں خبر دینے کے ساتھ ساتھ معاشرے اور ثقافت کے درمیان ایک پل کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے۔

محکمہ امورِ نوجوانان خیبر پختونخوا کے تعاون اور رہنمائی سے منعقد ہونے والا یہ مطالعاتی دورہ صحافیوں کے لیے ایک مؤثر تجربہ ثابت ہوا، جس نے کیلاش وادی کے قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ یہاں کے لوگوں، ثقافت، معاشرتی مسائل اور بدلتے ہوئے حالات کو سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔

کیلاش: ایک زندہ تہذیب

کیلاش ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ تہذیبیں صرف کتابوں، عجائب گھروں اور تاریخ کے صفحات میں زندہ نہیں رہتیں۔ بعض تہذیبیں آج بھی سانس لیتی ہیں، تہوار مناتی ہیں، کھیتوں میں کام کرتی ہیں، روایتی لباس پہنتی ہیں، موسیقی بجاتی ہیں اور اپنی صدیوں پرانی شناخت نئی نسل تک منتقل کرتی ہیں۔

کیلاش بھی ایسی ہی ایک زندہ تہذیب ہے—جسے صرف دیکھنے سے زیادہ سمجھنے، اور سمجھنے سے بھی زیادہ محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔