حیات آباد، پشاور کے ایک پرائمری اسکول میں بچوں کے صفائی میں مصروف ہونے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے اور متعلقہ اساتذہ کی معطلی نے ایک اہم اور بنیادی سوال کو جنم دیا ہے: کیا بچوں کو صفائی جیسی سرگرمیوں میں شامل کرنا تربیت کا حصہ ہے یا یہ ان سے نامناسب مشقت لینے کے زمرے میں آتا ہے؟

یہ معاملہ محض اساتذہ کی معطلی یا ایک وائرل ویڈیو تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ اس واقعے کو وسیع تر تعلیمی، سماجی اور انتظامی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اصل بحث یہ نہیں کہ صفائی اچھی چیز ہے یا بری، بلکہ یہ ہے کہ بچوں کو صفائی کی تربیت کس انداز میں دی جائے اور وہ حد کہاں ختم ہوتی ہے جہاں تربیت کا مقصد ختم ہو کر ذمہ داری کا بوجھ بچوں پر منتقل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کو اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھنے، کلاس روم کو منظم رکھنے اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے مختلف سرگرمیوں میں شامل کیا جاتا ہے۔ جاپان سمیت بعض ممالک کی مثالیں اکثر دی جاتی ہیں، جہاں طلبہ اسکول کے ماحول کو صاف رکھنے میں حصہ لیتے ہیں۔ بلاشبہ ان تجربات سے سیکھا جا سکتا ہے، لیکن کسی بھی معاشرے کے تعلیمی ماڈل کو اس کے مکمل سماجی اور ادارہ جاتی تناظر سے الگ کرکے نقل نہیں کیا جا سکتا۔

جن معاشروں کی مثالیں دی جاتی ہیں، وہاں اسکول کا انتظام، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی عمر کے مطابق ذمہ داریوں کا تعین، صفائی کے معیارات، والدین کا رویہ اور عمومی سماجی نظم و ضبط ایک مربوط نظام کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ ’’وہاں بچے صفائی کرتے ہیں‘‘، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ وہ بچے کیا صفائی کرتے ہیں، کیوں کرتے ہیں، کتنی دیر کرتے ہیں، کس نگرانی میں کرتے ہیں اور اس سرگرمی کا مقصد کیا ہے۔

پاکستان میں اس مسئلے کی پیچیدگی اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہمارے بہت سے سرکاری اسکول پہلے ہی وسائل، معاون عملے، انتظامی صلاحیت اور بنیادی سہولیات کے مسائل سے دوچار ہیں۔ چنانچہ اگر کسی اسکول میں صفائی کے لیے باقاعدہ عملہ موجود ہو لیکن وہ اپنی ذمہ داری پوری نہ کر رہا ہو، اور اس کے نتیجے میں صفائی کا کام بچوں کے سپرد کر دیا جائے، تو معاملہ محض تربیتی سرگرمی نہیں رہتا۔

یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے: بچوں کو صفائی کی اہمیت سکھانا اور بچوں سے اسکول کی صفائی کروانا ایک ہی چیز نہیں۔

اگر ایک استاد بچوں کو یہ سکھاتا ہے کہ کچرا زمین پر نہ پھینکیں، اپنی میز صاف رکھیں، استعمال شدہ چیز مقررہ جگہ پر ڈالیں، کلاس روم کو ترتیب سے رکھیں یا محدود وقت کے لیے عمر کے لحاظ سے مناسب اجتماعی سرگرمی میں حصہ لیں، تو یہ بلاشبہ تربیت کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ایسی سرگرمیاں بچوں میں خود انحصاری، نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری اور اپنے ماحول سے تعلق کا احساس پیدا کر سکتی ہیں۔

لیکن صورت حال اس وقت مختلف ہو جاتی ہے جب پرائمری جماعت کے کم عمر بچے باقاعدگی سے فرش، واش روم یا اسکول کے دیگر حصوں کی صفائی ایسے انداز میں کرنے لگیں جو دراصل صفائی کے لیے مقرر معاون عملے کی ذمہ داری ہے۔ خصوصاً اگر یہ کام طویل دورانیے تک، شدید گرمی میں، دباؤ یا مجبوری کے تحت، یا تعلیمی وقت کی قیمت پر کروایا جائے تو اسے صرف ’’تربیت‘‘ قرار دینا مشکل ہو جاتا ہے۔

عمر بھی اس بحث کا ایک بنیادی عنصر ہے۔ ایک بالغ طالب علم اور پرائمری اسکول کے کم عمر بچے سے ایک جیسی جسمانی ذمہ داری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ بچوں کی جسمانی استطاعت، ذہنی پختگی اور صحت کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ جس سرگرمی کو ایک بڑے طالب علم کے لیے معمولی سمجھا جا سکتا ہے، وہ ایک کم عمر بچے کے لیے جسمانی یا نفسیاتی دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

اسی طرح رضاکارانہ شرکت اور جبری شرکت میں بھی بنیادی فرق ہے۔ اگر بچوں کو مناسب، مختصر اور محفوظ سرگرمی کے ذریعے اپنے ماحول کی دیکھ بھال کا شعور دیا جا رہا ہے تو یہ ایک مثبت تعلیمی تجربہ ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر بچے سزا، خوف، استاد کے دباؤ یا کسی دوسری مجبوری کے باعث صفائی کر رہے ہوں تو ’’رضاکارانہ تربیت‘‘ کی دلیل کمزور پڑ جاتی ہے۔

یہاں ایک اور اہم سوال بھی پیدا ہوتا ہے: اگر اسکول میں صفائی کے لیے باقاعدہ عملہ مقرر ہے تو اس عملے کی ذمہ داری کون پوری کرے گا؟

اگر کوئی سویپر یا معاون ملازم اپنی ڈیوٹی انجام نہیں دے رہا تو اس کا حل بچوں کو صفائی پر لگا دینا نہیں، بلکہ انتظامی نظام کی ناکامی کا ازالہ ہونا چاہیے۔ متعلقہ ملازم کی حاضری، فرائض اور نگرانی کا جائزہ لیا جائے، اسکول انتظامیہ سے جواب طلبی کی جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں عملے اور وسائل کی کمی دور کی جائے۔

اسی تناظر میں حیات آباد کے واقعے میں اساتذہ کی معطلی کو بھی محض ایک انتظامی کارروائی سمجھنے کے بجائے ایک بڑے سوال کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔ اگر اساتذہ نے واقعی بچوں کو نامناسب، جبری یا ان کی عمر اور صحت کے لیے نقصان دہ صفائی کے کام پر لگایا تو جواب دہی ضروری ہے۔ لیکن اگر سرگرمی محدود، تربیتی اور عمر کے مطابق تھی تو پھر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا مکمل سیاق و سباق کے بغیر وائرل ویڈیو نے واقعے کی تصویر کو یک طرفہ بنا دیا؟

سوشل میڈیا کے دور میں چند سیکنڈ کی ویڈیو پورے واقعے کی نمائندگی کرنے لگتی ہے۔ ویڈیو میں یہ نظر آ سکتا ہے کہ بچے صفائی کر رہے ہیں، لیکن یہ لازماً معلوم نہیں ہوتا کہ سرگرمی کتنی دیر جاری رہی، کس مقصد کے لیے تھی، بچوں کو کیا ہدایت دی گئی، کیا وہ رضاکارانہ طور پر شریک تھے، اسکول میں باقاعدہ صفائی کا عملہ موجود تھا یا نہیں، اور کیا کسی بچے کو نقصان یا دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس لیے انتظامی کارروائی کی بنیاد صرف وائرل تاثر نہیں بلکہ مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیق ہونی چاہیے۔

دوسری طرف اساتذہ کے لیے بھی یہ دلیل کافی نہیں ہونی چاہیے کہ ’’دنیا بھر میں بچے صفائی کرتے ہیں۔‘‘ ہر تعلیمی سرگرمی کے لیے واضح حدود، عمر کے مطابق رہنما اصول اور مناسب نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ اساتذہ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بچوں میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے کون سی سرگرمیاں مناسب ہیں اور کن کاموں کی ذمہ داری بچوں پر منتقل نہیں کی جا سکتی۔

اصل حل شاید ’’بچے صفائی کریں یا نہ کریں‘‘ کی دو انتہاؤں کے درمیان موجود ہے۔

ہمیں بچوں کو صفائی سے دور نہیں کرنا چاہیے۔ ایک ایسا بچہ جو اپنے کلاس روم کو صاف رکھنے، کچرا مناسب جگہ ڈالنے اور اپنے ماحول کا خیال رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے، دراصل ایک بہتر شہری بننے کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔ لیکن اس تربیت کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اسکول کے انتظامی یا صفائی کے بنیادی فرائض بچوں کے کندھوں پر ڈال دیے جائیں۔

تربیت کا مقصد ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا ہے، ذمہ داری کا بوجھ منتقل کرنا نہیں۔

لہٰذا حیات آباد کا واقعہ ہمیں صرف یہ سوچنے پر مجبور نہیں کرتا کہ متعلقہ اساتذہ کو معطل کیا جانا چاہیے تھا یا نہیں۔ اس سے کہیں اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے اسکولوں میں بچوں کی تربیت، اساتذہ کی ذمہ داری، معاون عملے کے فرائض اور بچوں کے تحفظ کے درمیان حدود کہاں متعین ہیں۔

آگے بڑھنے کا بہتر راستہ یہ ہوگا کہ تعلیمی اداروں کے لیے واضح رہنما اصول وضع کیے جائیں: بچوں کی عمر کے مطابق کون سی صفائی کی سرگرمیاں قابل قبول ہیں، ان کی مدت کیا ہو، کون سے کام بچوں سے ہرگز نہ لیے جائیں، رضاکارانہ شرکت کو کیسے یقینی بنایا جائے، اور اس بات کی نگرانی کیسے ہو کہ تربیت کے نام پر بچوں سے باقاعدہ صفائی کا کام نہ لیا جائے۔

آخرکار بحث کا محور صرف ’’صفائی‘‘ نہیں بلکہ بچے کا وقار، تحفظ، تعلیم اور تربیت ہونا چاہیے۔

ایک اچھا اسکول بچے کو صرف کتاب نہیں پڑھاتا؛ وہ اسے ذمہ دار شہری بھی بناتا ہے۔ مگر ذمہ دار شہری بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بچے کو ذمہ داری کا شعور دیں، نہ کہ بڑوں کی ذمہ داریاں اس کے کندھوں پر ڈال دیں۔