ضلع خیبر کے علاقے باڑہ اور ملحقہ علاقوں میں دہشتگردی سے تباہ ہونے والے تعلیمی اداروں کی بحالی کے لیے خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تاریخی اقدام مکمل کر لیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے چین کی مالی اور تکنیکی معاونت سے تعمیرِ نو اور بحالی کے بعد 50 اسکولوں کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

وزیر اعلیٰ کو منصوبے سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ یہ منصوبہ 3 ارب 21 کروڑ روپے کی لاگت سے کامیابی کے ساتھ مکمل کیا گیا۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بحال کیے گئے تمام اسکول فعال ہو چکے ہیں اور ہزاروں طلبہ جدید تعلیمی سہولیات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

منصوبے کے تحت 35 پرائمری، 7 مڈل، 7 ہائی اور ایک سینئر ہائی اسکول کی تعمیرِ نو کے بعد انہیں دوبارہ فعال کیا گیا ہے۔ تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد تمام اسکول محکمہ تعلیم کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ محض عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں میں سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی نے اسکول گرائے تھے، مگر صوبائی حکومت نے مستقبل تعمیر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی کا مؤثر جواب تعلیم کے ذریعے دیا جائے گا۔

بحال کیے گئے اسکولوں میں شمسی توانائی کا نظام، صاف پانی کی فراہمی، ٹھنڈک اور صفائی کی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، تاکہ طلبہ کو محفوظ اور معیاری تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔

واضح رہے کہ ماضی میں ان علاقوں میں دہشتگردی کے واقعات کے دوران پچاس سے زائد سرکاری اسکول تباہ ہوئے تھے۔ ان میں سے 50 اسکولوں کی تعمیرِ نو مکمل کر کے انہیں دوبارہ فعال بنا دیا گیا ہے، جس سے باڑہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔