ایبٹ آباد: حسن ٹاؤن سے 12 سالہ بچے کے اغواء کا مقدمہ پولیس نے چند گھنٹوں میں ٹریس کرتے ہوئے مغوی بچے کو بحفاظت بازیاب کرلیا، جبکہ تین مبینہ ملزمان کو گرفتار کرکے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔
پولیس کے مطابق تھانہ سکندرآباد میں محمد ابراہیم ولد شاہ زمان سکنہ حسن ٹاؤن کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مدعی نے پولیس کو بتایا کہ اس کا 12 سالہ بیٹا عبداللہ، جسے اس کا بھتیجا اویس ہارون ولد محمد ہارون بہانے سے گھر سے باہر لے گیا تھا، واپس نہیں آیا۔
بعد ازاں مدعی کو موبائل پیغام کے ذریعے بچے کے اغواء کی اطلاع دیتے ہوئے اس کی رہائی کے عوض 10 کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی آر پی او ہزارہ ریجن اور ڈی پی او ایبٹ آباد نے فوری نوٹس لیتے ہوئے خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دیں۔ پولیس نے ایبٹ آباد اور ملحقہ اضلاع کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندیاں قائم کرکے مشکوک گاڑیوں اور افراد کی چیکنگ شروع کردی۔
پولیس ٹیموں نے جدید ذرائع سے ملزمان کی لوکیشن ٹریس کی، جس سے معلوم ہوا کہ ملزمان مغوی بچے کو اپنے ہمراہ لے کر راولپنڈی/اسلام آباد کی جانب روانہ ہیں۔ اس پیش رفت پر ڈی پی او ایبٹ آباد نے اسلام آباد پولیس سے فوری رابطہ کرکے ملزمان کے ممکنہ روٹ اور گاڑی سے متعلق معلومات فراہم کیں۔
پولیس کے مطابق ترنول پوائنٹ پر قائم ناکہ بندی کے دوران مشکوک گاڑی کو روک کر مغوی 12 سالہ عبداللہ کو بحفاظت بازیاب کرلیا گیا، جبکہ تین مبینہ ملزمان اویس ہارون ولد محمد ہارون، نیاز اور احمد علی کو گرفتار کرلیا گیا۔
ایبٹ آباد پولیس کی خصوصی ٹیم ترنول پہنچی اور قانونی تقاضے مکمل کرنے کے بعد مغوی بچے کو بحفاظت اپنی تحویل میں لے کر ایبٹ آباد منتقل کردیا۔
پولیس کے مطابق 26 اگست 2026 کو گرفتار ملزمان کو تھانہ ترنول سے ایبٹ آباد منتقل کردیا گیا، جبکہ واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی قبضہ پولیس میں لے لی گئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث دیگر افراد، ملزمان کے باہمی روابط، واردات کے محرکات اور دیگر پہلوؤں سے متعلق مزید تفتیش جاری ہے۔
