یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے سالانہ کانووکیشن 2026 کی پروقار تقریب پشاور یونیورسٹی کے کانووکیشن ہال میں منعقد ہوئی، جس میں صوبے کے مستقبل سمجھے جانے والے نوجوانوں نے اپنی تعلیمی کامیابیوں کا جشن منایا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چانسلر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی تھے۔

کانووکیشن میں تعلیمی سال 2025 کے دوران فارغ التحصیل ہونے والے 620 طلبہ و طالبات میں بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں تقسیم کی گئیں۔ ان میں 573 بی ایس سی، 38 ایم ایس سی اور 4 پی ایچ ڈی ڈگریاں شامل تھیں، جبکہ بی ایس سی انجینئرنگ میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 22 طلبہ و طالبات کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا۔ فارغ التحصیل طلبہ کا تعلق سول، الیکٹریکل، کیمیکل، کمپیوٹر سسٹمز، انرجی، میکاٹرانکس، اربن پلاننگ، مائننگ، آرکیٹیکچر اور کمپیوٹر سائنس سمیت مختلف جدید شعبوں سے تھا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، تاہم ماضی کی بدامنی نے ان کے خوابوں کو محدود کر دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے کے عوام کے حقوق پر کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی اور وہ ذاتی مفاد کے بجائے صوبے کے اجتماعی حق کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتے رہیں گے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت نظامِ تعلیم میں جدید اصلاحات متعارف کرا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ تعلیم، تحقیق اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں تاکہ صوبے کا کوئی بھی نوجوان مایوسی کا شکار نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ امن کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ خیبر پختونخوا نے دہائیوں تک بدامنی کا سامنا کیا ہے، اب صوبے کو مزید تجربات کی نذر نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلے مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں، جبکہ وفاق کے ذمے صوبے کے اربوں روپے تاحال واجب الادا ہیں۔

تیراہ متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے پر ہونے والی تنقید کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے فیصلوں کو سیاست کی نذر کرنا افسوسناک ہے، جبکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں 5300 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی کے باوجود خاموشی اختیار کی گئی۔

تقریب کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے فارغ التحصیل نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ علم، کردار اور محنت کو اپنا ہتھیار بنائیں اور خیبر پختونخوا کو امن، ترقی اور خودداری کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔