ہری پور: 16 روز قبل گھر سے کھیلنے کے لیے نکلنے کے بعد لاپتا ہونے والی 5 سالہ ایت نور کی لاش گزشتہ رات یونیورسٹی روڈ پر واقع ایک ویئر ہاؤس کے کنویں سے برآمد کرلی گئی۔ پولیس کے مطابق بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کرکے لاش کنویں میں پھینکی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق ایت نور کے اغوا میں مبینہ طور پر ملوث 5 ملزمان کی شناخت سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کی گئی، جن میں سے 3 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ دیگر 2 ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کے دوران اہم معلومات سامنے آئی ہیں، تاہم مبینہ اعترافات کی مزید تصدیق شواہد اور قانونی کارروائی کے ذریعے کی جا رہی ہے۔
پانچ روزہ سرچ آپریشن کے بعد لاش برآمد
پولیس کے مطابق ایت نور کی تلاش کے لیے مختلف پولیس ٹیموں نے متعدد مقامات پر سرچ آپریشن کیا، جو مسلسل پانچ روز تک جاری رہا۔ تلاش کے دوران گزشتہ رات یونیورسٹی روڈ پر واقع ویئر ہاؤس کے ایک کنویں سے بچی کی لاش برآمد ہوئی۔
لاش کو قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاء کے حوالے کردیا گیا۔
نمازِ جنازہ میں ہزاروں شہریوں کی شرکت
ایت نور کی نمازِ جنازہ کھاد فیکٹری گراؤنڈ میں ادا کی گئی، جس میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ کمسن بچی کی المناک موت پر فضا سوگوار رہی اور شرکاء غم سے نڈھال نظر آئے۔
انصاف کے مطالبے پر جی ٹی روڈ بلاک
لاش ملنے کے بعد شہریوں کی بڑی تعداد نے شدید احتجاج کیا اور بچی کی لاش جی ٹی روڈ پر رکھ کر ’’ایت نور کو انصاف دو‘‘ کے نعرے لگائے۔
مظاہرین کی جانب سے جی ٹی روڈ بلاک کیے جانے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو گرفتار کرکے شفاف تحقیقات کی جائیں اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ہری پور بار کا یومِ سوگ کا اعلان
دوسری جانب ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ہری پور نے ایت نور کے افسوسناک واقعے پر آج یومِ سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ بار ایسوسی ایشن کے اعلان کے تحت وکلاء کی جانب سے عدالتوں میں بھی یومِ سوگ منایا جا رہا ہے۔
شہریوں اور مختلف حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کمسن ایت نور کے خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے، واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے۔
