ضلع خیبر، باڑہ: ملک دین خیل نالہ میں واقع گورنمنٹ گرلز ہائی سکول غازی گل کی عمارت 2011 کی بدامنی کے دوران متاثر ہونے کے تقریباً 15 سال بعد بھی خستہ حالی کا شکار ہے، جہاں 630 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں، تاہم تدریسی عملے اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق سکول کے پرائمری سیکشن میں تقریباً 400 جبکہ ہائی سکول سیکشن میں 230 سے زائد طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود پورے سکول میں مجموعی طور پر صرف 9 خواتین اساتذہ تعینات ہیں، جو طالبات کی تعداد کے لحاظ سے ناکافی قرار دی جا رہی ہیں۔

15 سال گزر گئے، عمارت کی حالت نہ بدل سکی

مقامی ذرائع کے مطابق 2011 میں بدامنی کے دوران سکول کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ عمارت کی دیواریں، متعدد کمرے اور ہال متاثر ہوئے، جبکہ بعض کمروں کے دروازے بھی تاحال موجود نہیں ہیں۔

خستہ حال عمارت کے باعث طالبات کو موسم کی شدت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شدید گرمی اور سردی کے باوجود مناسب سہولیات کی عدم دستیابی سے طالبات اور تدریسی عملے کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

تعمیر نو کا منصوبہ، مگر عملی کام تاحال شروع نہ ہو سکا

ذرائع کا کہنا ہے کہ 2011 کی بدامنی کے دوران متاثر ہونے والے بعض تعلیمی اداروں کی تعمیر نو چین ایڈ کے تعاون سے کی گئی، جبکہ غازی گل گرلز ہائی سکول کی تعمیر کے لیے ٹینڈر جاری ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔

تاہم مقامی افراد کے مطابق طویل عرصہ گزرنے کے باوجود سکول کی تعمیر نو یا مکمل بحالی کا عملی کام شروع نہیں کیا جا سکا، جس کے باعث طالبات کو اب بھی ایک غیر محفوظ اور ناکافی سہولیات والی عمارت میں تعلیم حاصل کرنا پڑ رہی ہے۔

والدین کو حادثے کا خدشہ

والدین اور علاقہ مکینوں نے سکول کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خستہ حال عمارت میں بچیوں کا تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا کسی ممکنہ حادثے کے خطرے سے خالی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سکول سے تعلیم حاصل کرنے والی متعدد طالبات آج مختلف یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہی ہیں، جو اس ادارے کی تعلیمی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اتنے اہم تعلیمی ادارے کی عمارت آج بھی بنیادی سہولیات اور محفوظ تعلیمی ماحول سے محروم ہے۔

مزید اساتذہ کی تعیناتی کا مطالبہ

والدین اور مقامی افراد نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا، رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی اور ڈیڈک چیئرمین عبدالغنی آفریدی سے مطالبہ کیا ہے کہ غازی گل گرلز ہائی سکول کی تعمیر و مرمت کا کام فوری طور پر شروع کیا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سکول کی عمارت کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ طالبات کی تعداد کے تناسب سے مزید خواتین اساتذہ بھی تعینات کی جائیں، تاکہ بچیوں کو محفوظ، باعزت اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

والدین کا کہنا ہے کہ 15 سال کا عرصہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی بحالی کے لیے بہت طویل ہے، اس لیے مزید تاخیر کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ غازی گل کی طالبات کو بنیادی تعلیمی حقوق اور محفوظ ماحول میسر آ سکے۔