پاکستان میں خواتین اور خواجہ سرا افراد کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک گہرے اور تکلیف دہ سماجی بحران کی عکاسی کرتے ہیں۔ صنفی بنیادوں پر تشدد کے یہ واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرے میں موجود عدم مساوات، کمزور حفاظتی نظام اور رپورٹنگ کے مسائل کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔

انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرم تنظیم ساحل کی جانب سے 23 جولائی 2026 کو جاری کی گئی شش ماہی رپورٹ ملک میں صنفی تشدد کی صورتحال کا ایک تشویش ناک منظرنامہ پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں صنف پر مبنی تشدد کے 3,172 واقعات دستاویزی شکل میں سامنے آئے، جن میں 18 واقعات خواجہ سرا برادری سے متعلق تھے۔

رپورٹ کے مطابق قتل سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والے سنگین جرائم میں سرفہرست رہا، جس کے تحت 644 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ 514 افراد شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنے۔ اسی عرصے کے دوران 462 اغوا، 363 خودکشی، 280 ریپ، 175 شدید زخمی کرنے والے حملوں اور 132 نام نہاد غیرت کے نام پر قتل کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

رپورٹ میں 129 ہراسانی، اغوا کے بعد زیادتی کے 100، اجتماعی زیادتی کے 79، اقدامِ زیادتی کے 67 اور تیزاب گردی کے 14 واقعات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زبردستی کی شادی کے 3 اور جبری مذہبی تبدیلی کا ایک واقعہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں جنسی تشدد سے متعلق بعض مشترکہ نوعیت کے واقعات، جن میں پورنوگرافی اور تصویری مواد کے ذریعے استحصال شامل ہے، بھی دستاویز کیے گئے ہیں۔

گھر، جو محفوظ ترین جگہ سمجھا جاتا ہے

رپورٹ کا شاید سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ تشدد کے بیشتر واقعات ان مقامات پر پیش آئے جنہیں عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 54 فیصد، یعنی 1,725 واقعات، متاثرہ افراد کے اپنے گھروں میں پیش آئے۔ اس کے علاوہ 25 فیصد واقعات نامعلوم یا غیر واضح مقامات پر، 12 فیصد ملزم کے گھر میں، جبکہ صرف 9 فیصد واقعات گلیوں، سڑکوں اور کام کی جگہوں جیسے عمومی مقامات پر رپورٹ ہوئے۔

یہ اعداد و شمار اس تاثر کو چیلنج کرتے ہیں کہ صنفی تشدد کا خطرہ صرف عوامی مقامات تک محدود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے متاثرین کے لیے خطرہ ان کی اپنی چار دیواری کے اندر موجود ہوتا ہے۔

کم عمر بچیوں کا تحفظ بھی ایک بڑا سوال

عمر کے حوالے سے بھی رپورٹ میں اہم پہلو سامنے آیا ہے۔ خبر رساں ذرائع سے حاصل ہونے والی 71 فیصد رپورٹس میں متاثرہ افراد کی عمر کا ذکر موجود نہیں تھا، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق 21 سے 30 سال کی خواتین سے متعلق 334 واقعات جبکہ 11 سے 20 سال کی بچیوں سے متعلق 306 واقعات رپورٹ ہوئے۔ مزید برآں 63 واقعات میں متاثرہ بچوں کی عمر 10 سال سے کم ریکارڈ کی گئی۔

یہ اعداد و شمار بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ کے لیے موجود نظام کی کارکردگی پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

ملزمان میں قریبی افراد کی تعداد زیادہ

صنفی تشدد کے واقعات میں ملزمان کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو ایک اور تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجنبی افراد کے مقابلے میں واقف کار افراد 27 فیصد کے ساتھ سب سے نمایاں رہے، جبکہ 24 فیصد واقعات میں ملزمان اجنبی تھے۔ شوہروں کا تناسب 13 فیصد رہا، جبکہ والد، بھائی، چچا اور دیگر قریبی رشتہ دار بھی متعدد واقعات میں ملزم کے طور پر سامنے آئے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنفی تشدد کا خطرہ اکثر کسی اجنبی سے نہیں بلکہ متاثرہ فرد کے جاننے والوں اور قریبی حلقے سے وابستہ افراد کی جانب سے بھی ہو سکتا ہے۔

پنجاب میں سب سے زیادہ واقعات رپورٹ

صوبائی سطح پر پنجاب 2,352 واقعات، یعنی 74 فیصد، کے ساتھ سرفہرست رہا۔ سندھ میں 554 واقعات، جو مجموعی تعداد کا 17 فیصد بنتے ہیں، رپورٹ ہوئے، جبکہ خیبر پختونخوا میں 180 واقعات، یعنی 6 فیصد، سامنے آئے۔ بلوچستان، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے مجموعی طور پر 86 واقعات، یعنی 3 فیصد، رپورٹ ہوئے۔

تاہم صوبائی اعداد و شمار کو سمجھتے وقت یہ بات بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ کسی علاقے میں زیادہ واقعات کا رپورٹ ہونا لازماً وہاں جرائم کی شرح زیادہ ہونے کا حتمی ثبوت نہیں۔ آبادی، میڈیا تک رسائی، پولیس میں رپورٹنگ، آگاہی اور مقدمات کے اندراج کا نظام بھی ان اعداد و شمار پر اثر انداز ہوتا ہے۔

ایف آئی آر کا اندراج، مگر انصاف کہاں تک؟

رپورٹ کے مطابق 76 فیصد مقدمات، یعنی 2,425 واقعات میں ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ 23 فیصد واقعات میں پولیس کارروائی یا ایف آئی آر کے اندراج کی صورتحال واضح نہیں تھی۔ ایک فیصد واقعات میں مقدمات درج نہیں ہو سکے۔

ایف آئی آر کا اندراج اگرچہ انصاف کے حصول کی جانب پہلا قدم ہے، لیکن اصل امتحان اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔ تفتیش، شواہد کا تحفظ، متاثرہ فرد کا قانونی اور نفسیاتی تحفظ، ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی اور مقدمات کا بروقت فیصلہ—یہ تمام مراحل انصاف کے نظام کی مجموعی کارکردگی کا تعین کرتے ہیں۔

اعداد و شمار سے کہیں بڑا بحران

1996 سے صنفی تشدد کے خلاف کام کرنے والی تنظیم ساحل کے مطابق رپورٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔ سماجی بدنامی، خوف، خاندانی دباؤ، معاشی انحصار اور قانونی کارروائی کے پیچیدہ مراحل کے باعث بہت سے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے۔

یہی وجہ ہے کہ صنفی تشدد کے خلاف جنگ صرف قوانین بنانے یا اعداد و شمار مرتب کرنے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس اور عدالتی نظام میں مؤثر اصلاحات لائی جائیں، متاثرین کے لیے محفوظ اور قابلِ رسائی شکایتی نظام قائم کیا جائے، خواتین اور بچوں کو قانونی و نفسیاتی معاونت فراہم کی جائے اور معاشرے میں ایسے رویوں کے خلاف شعور پیدا کیا جائے جو تشدد کو معمول، خاندانی معاملہ یا خاموشی سے برداشت کرنے والی چیز سمجھتے ہیں۔

صنفی تشدد کے یہ اعداد و شمار دراصل ہمارے معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کتنے واقعات رپورٹ ہوئے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کتنے واقعات رپورٹ ہونے سے رہ گئے، کتنے متاثرین انصاف تک پہنچ سکے اور ہم اپنے گھروں، اداروں اور معاشرتی رویوں کو حقیقی معنوں میں کتنا محفوظ بنا سکے؟

جب تک تشدد کے خلاف قانون کے ساتھ ساتھ معاشرتی سوچ میں بھی بنیادی تبدیلی نہیں آتی، اس وقت تک محض قوانین کا وجود ہماری چار دیواری کو مکمل طور پر محفوظ نہیں بنا سکتا۔