معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی عرف عائشہ گیلامنہ کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ راولپنڈی پولیس نے مقتولہ کے والد اور حقیقی بھائی سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں نے کیس کی تفتیش کے دوران 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا، جبکہ جدید تکنیکی ذرائع اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے تحقیقات کو آگے بڑھایا گیا۔
ایس ایس پی آپریشنز طارق محبوب نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ٹیکسلا پولیس نے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مقتولہ کے والد فضل اور بھائی بشیر کو شاملِ تفتیش کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دورانِ تفتیش دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر عائشہ کو قتل کروانے کا اعتراف کیا۔ تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ قتل کے محرکات سمیت واقعے کے تمام پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے واقعے کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم تکنیکی شواہد اور پیشہ ورانہ تفتیش کے نتیجے میں مبینہ طور پر اصل حقائق سامنے آگئے۔
گرفتار ملزمان میں مقتولہ کے والد فضل، بھائی بشیر، چچا زاد بھائی احسان، والد کے چچا روزی خان اور چچا زاد بھائی کا بیٹا یاسین شامل ہیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق پولیس کو شبہ ہے کہ عائشہ کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، تاہم پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قتل کی حتمی وجہ اور دیگر محرکات کا تعین مزید تفتیش کے بعد کیا جائے گا۔
پولیس نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
