پشاور: جامعہ ہری پور میں سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن کے دور میں بھرتیوں کے دوران مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں کے خلاف درخواست دینے والے امیدواروں نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ، چانسلر، پرو چانسلر اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے اراکین کو مشترکہ درخواست ارسال کرتے ہوئے تحقیقات کی مکمل رپورٹ، نتائج اور سفارشات فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
شکایت کنندگان کے مطابق وہ انہی اصل درخواست گزاروں میں شامل ہیں جن کی شکایات کی بنیاد پر ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے جامعہ ہری پور میں مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 16 جولائی 2026 کو ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی کارروائی کا نتیجہ قرار دیا گیا، تاہم اس میں بنیادی طور پر فنانس سے منظور شدہ آسامیوں اور منتخب امیدواروں کی تعداد میں فرق سے متعلق انتظامی معاملے کا ذکر ہے۔
شکایت کنندگان کا کہنا ہے کہ ان کی اصل شکایت صرف آسامیوں کی تعداد تک محدود نہیں تھی بلکہ بنیادی سوال یہ تھا کہ زیادہ میرٹ رکھنے والے امیدواروں کو مبینہ طور پر نظر انداز کرکے کم میرٹ رکھنے والے امیدواروں کا انتخاب کیوں کیا گیا؟
درخواست کے مطابق ریسرچ پراجیکٹس، تعلیمی کوانٹیفیکیشن، اضافی تجربے، پوسٹ ڈاک اور انٹرویو کے نمبروں کے تعین سمیت میرٹ سے متعلق متعدد اعتراضات بھی اٹھائے گئے تھے، تاہم ان معاملات پر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی واضح رائے یا فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
شکایت کنندگان کے اہم مطالبات
درخواست میں حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
1. میرٹ کی بحالی کرتے ہوئے ان امیدواروں کو تقرری کے احکامات جاری کیے جائیں جنہیں شکایت کنندگان کے مطابق زیادہ میرٹ کے باوجود نظر انداز کیا گیا، اور ان تقرریوں کو 18 اکتوبر 2025، یعنی سندیکیٹ کی منظوری کی تاریخ سے مؤثر قرار دیا جائے۔
2. سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمن سمیت ان تمام ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے جن کے خلاف تحقیقات میں میرٹ یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو۔
3. پروفیسر ڈاکٹر عزیز اللہ کی ٹی ٹی ایس پروموشن کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر ایچ ای سی کے مقررہ معیار یا قواعد کی خلاف ورزی ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
4. فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں کی مکمل رپورٹ، نتائج اور سفارشات تمام شکایت کنندگان اور متعلقہ حکام کے سامنے پیش کی جائیں۔
شکایت کنندگان نے مؤقف اختیار کیا کہ فنانس سے منظور شدہ آسامیوں اور منتخب امیدواروں کی تعداد کا تقابلی جائزہ بنیادی طور پر ایک انتظامی معاملہ ہے، جسے نسبتاً کم وقت میں مکمل کیا جا سکتا تھا۔ ان کے مطابق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں نے کئی ماہ تک امیدواروں کے بیانات، دستاویزات اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا، اس لیے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ طویل تحقیقات کے باوجود میرٹ سے متعلق اصل نتائج اور سفارشات سامنے کیوں نہیں لائی گئیں۔
کن معاملات پر وضاحت طلب کی گئی؟
درخواست میں میرٹ کے تعین سے متعلق مختلف امور پر واضح جواب اور وضاحت طلب کی گئی ہے، جن میں:
- زیادہ میرٹ رکھنے والے امیدواروں کو مسترد اور کم میرٹ رکھنے والے امیدواروں کے انتخاب کی وجوہات؛
- یونیورسٹی قوانین کے تحت ریسرچ پراجیکٹس کے نمبروں کی تقسیم؛
- تجربے، پوسٹ ڈاک اور اضافی تعلیمی قابلیت کے نمبروں کی درست کوانٹیفیکیشن؛
- انٹرویو کے مقررہ قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد؛
- میرٹ کے تعین اور امیدواروں کے انتخاب سے متعلق دیگر اعتراضات۔
شکایت کنندگان نے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں نے اپنی مکمل رپورٹ جمع کرا دی ہے تو اسے فوری طور پر شکایت کنندگان اور متعلقہ حکام کے ساتھ شیئر کیا جائے، تاکہ آئندہ کسی بھی فورم، بالخصوص یونیورسٹی سینیٹ، میں فیصلہ مکمل ریکارڈ اور حقائق کی بنیاد پر کیا جا سکے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، بطور چانسلر، اور وزیر برائے ہائر ایجوکیشن سے بھی اپیل کی ہے کہ شفافیت، احتساب اور میرٹ کے اصولوں کو یقینی بنانے کے لیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیوں کی مکمل رپورٹ اور سفارشات منظرعام پر لائی جائیں۔
درخواست گزاروں نے مزید مطالبہ کیا ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی قسم کی بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور مبینہ طور پر متاثرہ امیدواروں کو مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔
شکایت کنندگان کے مطابق درخواست کی نقول چانسلر، پرو چانسلر اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے اراکین کو بھی ارسال کی گئی ہیں، جبکہ اس کے ساتھ مشترکہ نظرثانی درخواست اور 33 صفحات پر مشتمل فیکٹ شیٹ بھی منسلک کی گئی ہے، جس میں مبینہ میرٹ خلاف ورزیوں سے متعلق تفصیلات اور اعتراضات درج ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ الزامات شکایت کنندگان کے مؤقف پر مبنی ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق یا متعلقہ یونیورسٹی/حکام کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہے۔
