پشاور: شاہ پور کے علاقے میں 16 سالہ طالبعلم کے مبینہ قتل اور اس کا رکشہ لے کر فرار ہونے کے واقعے نے ایک غریب خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کردیا ہے، جبکہ مقتول کے اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔

پولیس کو مقتول کے والد (م) ولد (ح)، سکنہ وڈپگہ نے بتایا کہ ان کا 16 سالہ بیٹا (م ب) دسویں جماعت کا طالبعلم تھا اور حال ہی میں میٹرک کا امتحان پاس کیا تھا۔ وہ روزانہ شام تقریباً چار بجے والد کا رکشہ لے کر مزدوری کے لیے نکلتا اور عموماً مغرب کے بعد واپس گھر آجاتا تھا۔

والد کے مطابق واقعے کے روز نوجوان رات گئے تک گھر واپس نہ پہنچا تو اہل خانہ نے اس کی تلاش شروع کردی اور مختلف تھانوں سے رابطہ کیا۔ بعد ازاں شاہ پور پولیس سے معلوم ہوا کہ عباس ٹاؤن، گھڑی بلوچ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے مبینہ طور پر نوجوان کے گلے میں پھندا ڈال کر اسے قتل کیا اور رکشہ لے کر فرار ہوگئے۔

خاندان کے مطابق مقتول کا والد محنت مزدوری کرتا ہے اور اہل خانہ کرائے کے مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے والد نے قرض لے کر رکشہ خریدا تھا۔ مقتول دن کے وقت تعلیم حاصل کرتا جبکہ شام کے دو سے تین گھنٹے رکشہ چلا کر والد کا ہاتھ بٹاتا تھا۔

مقتول کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان غریب اور محنت کش ہے اور کسی کے ساتھ ان کی کوئی دشمنی نہیں تھی۔ خاندان نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کرکے ملزمان کو گرفتار کیا جائے اور انہیں قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔

قتل کے محرکات کی تحقیقات ضروری

واقعے میں سب سے اہم سوال قتل کے محرکات اور ملزمان کی شناخت کا ہے۔ پولیس کے لیے مقتول کی آخری نقل و حرکت، رکشے کی موجودگی اور دیگر دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات آگے بڑھانا اہم ہوگا۔

جائے وقوعہ سے فرانزک شواہد کا حصول، ممکنہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ، عینی شاہدین کے بیانات اور مقتول کی آخری نقل و حرکت کا سراغ ملزمان تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

تاہم تحقیقات مکمل ہونے اور شواہد سامنے آنے تک کسی فرد یا گروہ کو واقعے کا ذمہ دار قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

غربت، تعلیم اور کم عمری میں روزگار

یہ واقعہ اس وسیع تر سماجی مسئلے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ معاشی مشکلات کے باعث بعض خاندان اپنے بچوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کم عمری میں روزگار میں ہاتھ بٹانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔

ایک طرف والدین اپنے بچوں کو تعلیم دے کر ان کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، تو دوسری جانب محدود آمدن اور بڑھتے ہوئے اخراجات انہیں بچوں کی مدد لینے پر مجبور کردیتے ہیں۔

اس کیس میں ایک محنت کش خاندان نے قرض لے کر روزگار کا ذریعہ بنایا، اپنے بچے کو تعلیم دلائی اور امید رکھی کہ وہ مستقبل میں خاندان کا سہارا بنے گا، تاہم مبینہ قتل نے نہ صرف ایک نوجوان زندگی کا خاتمہ کردیا بلکہ خاندان کے معاشی سہارے کو بھی چھین لیا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس واقعے کی شفاف اور مکمل تحقیقات کرتے ہوئے مقتول کے خاندان کو انصاف فراہم کرے، جبکہ متعلقہ ادارے کم عمر بچوں کے تحفظ، چائلڈ لیبر کی روک تھام اور شہری علاقوں میں جرائم کے سدباب کے لیے بھی مؤثر اقدامات کریں۔