پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبے کے آئینی، مالیاتی اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ وفاق کی جانب سے صوبے کے واجب الادا مالیاتی حصے میں یکطرفہ کٹوتی ناقابلِ قبول ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی حکومت نے بجٹ سے قبل دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا حکومت سے بھی اضافی رقم کا تقاضا کیا تھا۔ اس وقت طے پایا تھا کہ اگر ایف بی آر 15,260 ارب روپے کے ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرتا ہے تو خیبر پختونخوا کا حصہ تقریباً 175 ارب روپے بنتا، جبکہ ہدف سے کم محصولات کی صورت میں صوبے کو ملنے والی رقم بھی اسی تناسب سے کم ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اصولی طور پر اضافی رقم کی فراہمی کو اپنے قائد عمران خان سے ملاقات اور ان کی اجازت سے مشروط کیا تھا۔ دوسری شرط یہ تھی کہ ضم شدہ اضلاع کو 11ویں قومی مالیاتی کمیشن میں ان کا آئینی اور جائز حصہ دیا جائے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق اس مقصد کے لیے چھ ماہ کی مدت مقرر کی گئی تھی، بصورت دیگر ساتویں قومی مالیاتی کمیشن کے تحت وزیراعظم اور صدر کو سمری بھجوا کر آئینی طریقہ کار کے مطابق آرڈیننس جاری کرنے کا راستہ اختیار کیا جانا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ دوسری شرط فوری طور پر تسلیم کرلی گئی اور اسے قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی کارروائی کا باقاعدہ حصہ بھی بنایا گیا، تاہم بجٹ سے قبل عمران خان سے ملاقات نہ کرائے جانے کے باعث خیبر پختونخوا حکومت نے اضافی رقم کے حوالے سے وفاقی حکومت کے ساتھ کوئی مفاہمتی یادداشت منظور یا دستخط نہیں کی۔
محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ انہوں نے اپنی بجٹ تقریر میں بھی صوبائی حکومت کا مؤقف واضح کیا تھا اور اسی اصول کے تحت مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں وفاقی گرانٹ کی مذکورہ رقم شامل نہیں کی گئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس کے باوجود 5 اگست 2026 کو وفاقی وزارت خزانہ نے خیبر پختونخوا کو جولائی 2026 کی واجب الادا وفاقی مالیاتی منتقلیوں میں سے 6.4 ارب روپے کی براہ راست کٹوتی کی تجویز دی۔
وزیراعلیٰ کے مطابق وفاقی حکومت نے اس اقدام کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کی رضامندی حاصل نہیں کی، جبکہ صوبائی حکومت نے بھی مجوزہ کٹوتی کی منظوری نہیں دی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا محکمہ خزانہ نے 13 اگست 2026 کو اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کو ارسال کردہ خط میں باضابطہ طور پر واضح کیا ہے کہ مجوزہ کٹوتی کو صوبائی حکومت نے نہ منظور کیا ہے اور نہ ہی اس سے اتفاق کیا ہے۔
خط کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کی جانب سے گردش کرنے والی مفاہمتی یادداشت بھی صوبائی کابینہ سے منظور نہیں ہوئی اور نہ ہی صوبائی حکومت نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ مزید برآں مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں بھی اس مجوزہ انتظام کے لیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔
وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا کہ معاملہ محض سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ خیبر پختونخوا کے آئینی اور مالیاتی حقوق کا ہے۔ ان کے مطابق صوبائی محکمہ خزانہ نے اپنے باضابطہ خط میں واضح کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت وفاق کو صوبے کی آئینی طور پر واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار حاصل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کے آئینی مالیاتی حق میں کسی بھی کٹوتی کے لیے واضح آئینی یا قانونی بنیاد اور صوبائی حکومت کی رضامندی ضروری ہے، محض انتظامی یا حسابی ہدایت کے ذریعے صوبے کے مالیاتی حق میں کمی نہیں کی جا سکتی۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ان کی ہدایت پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل خیبر پختونخوا کے دفتر کے متعلقہ افسران سے ملاقات کی، جس میں واضح کیا گیا کہ صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ خزانہ نے تحریری ہدایات بھی جاری کردی ہیں کہ 6.4 ارب روپے یا اس مد میں کسی بھی رقم کی کٹوتی، اندراج، ردوبدل یا حسابی کارروائی خیبر پختونخوا حکومت کی واضح رضامندی کے بغیر نہ کی جائے۔ اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو کو بھی ایسی کسی لین دین کو صوبائی حکومت کی رضامندی کے بغیر درج یا نافذ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت ان کی ہدایت پر قومی مالیاتی کمیشن کے آئینی حق کے حصول کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں درخواست بھی دائر کرچکی ہے۔
محمد سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے آئینی، مالیاتی اور این ایف سی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ وہ ایسی مفاہمتی یادداشت یا انتظام کی بنیاد پر، جسے صوبائی حکومت نے نہ منظور کیا ہو اور نہ اس پر دستخط کیے ہوں، صوبے کے واجب الادا مالیاتی حصے سے یکطرفہ طور پر رقم منہا کرے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اس اقدام کو کسی صورت قبول نہیں کرے گی اور خیبر پختونخوا اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب قانونی، آئینی اور ادارہ جاتی راستے اختیار کرے گا۔
انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبے کے مالیاتی حصے کے ایک ایک روپے کا دفاع کیا جائے گا۔
