پشتون تاریخ میں کئی ایسے کردار گزرے ہیں جنہوں نے تلوار اٹھائی، جنگیں لڑیں اور میدان فتح کیے، لیکن ایک ایسا شخص بھی گزرا جس نے پشتون معاشرے میں طاقت اور مزاحمت کا ایک بالکل مختلف تصور پیش کیا۔ اس شخص کا نام خان عبدالغفار خان تھا، جنہیں دنیا نے باچا خان، بادشاہ خان اور فخرِ افغان کے نام سے جانا۔
6فروری 1890 کو چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں پیدا ہونے والے باچا خان نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ پشتون معاشرے کی اصلاح، تعلیم کے فروغ، سماجی برائیوں کے خاتمے، آزادی کی جدوجہد اور عدم تشدد کے فلسفے کے لیے وقف کیا۔ وہ 20 جنوری 1988 کو وفات پا گئے، مگر ان کا نظریہ آج بھی سیاسی اور سماجی مباحث میں زندہ ہے۔
ایک ایسے معاشرے میں پرورش جہاں بندوق اور بدلہ روایت تھے۔باچا خان نے ایک ایسے پشتون معاشرے میں آنکھ کھولی جہاں قبائلی دشمنیاں، انتقام، خون کے بدلے خون اور برطانوی نوآبادیاتی نظام کی سختیاں معاشرتی زندگی کا حصہ تھیں۔ انہوں نے بہت جلد محسوس کیا کہ پشتون قوم کا سب سے بڑا مسئلہ صرف بیرونی غلامی نہیں بلکہ اندرونی کمزوریاں، جہالت، تعلیمی پسماندگی اور باہمی اختلافات بھی ہیں۔
اسی احساس نے ان کے ذہن میں ایک سوال پیدا کیا۔اگر قوم کو بدلنا ہے تو تبدیلی کہاں سے شروع کی جائے؟
:باچا خان کا جواب تھا۔ "تعلیم سے" وہ سمجھتے تھے کہ ایک باشعور اور تعلیم یافتہ قوم اپنے حقوق بہتر طور پر سمجھ سکتی ہے اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکتی ہے۔
تعلیم ، باچا خان کی پہلی جنگ
باچا خان کی سیاسی جدوجہد شروع ہونے سے بہت پہلے ان کی توجہ تعلیم اور سماجی اصلاح کی طرف تھی۔انہوں نے پشتون علاقوں میں تعلیمی شعور پیدا کرنے کی کوشش کی اور لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں۔ان کی ابتدائی اصلاحی سرگرمیوں کا مقصد صرف اسکول بنانا نہیں تھا بلکہ معاشرے میں علم، نظم و ضبط، صفائی، سماجی ذمہ داری اور باہمی تعاون پیدا کرنا بھی تھا۔
ان کی فکر میں تعلیم کا مطلب صرف کتاب پڑھنا نہیں تھا۔ تعلیم کا مطلب تھا۔ اپنے حقوق کو سمجھنا، اپنی ذمہ داری کو پہچاننا اور اپنے معاشرے کے لیے کردار ادا کرنا۔یہی وجہ ہے کہ باچا خان کی جدوجہد کو صرف سیاسی تحریک سمجھنا ان کے کام کے ایک بڑے حصے کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ جدید تحقیق بھی ان کی تحریک کے سماجی اصلاح، خدمت اور عدم تشدد کے پہلوؤں پر زور دیتی ہے۔
انجمن اصلاحِ افغان ، تبدیلی کی پہلی منظم کوشش
باچا خان نے پشتون معاشرے کی اصلاح کے لیے منظم کوششیں شروع کیں۔ ان کی اصلاحی سرگرمیوں میں تعلیم کا فروغ، معاشرتی برائیوں کے خلاف جدوجہد اور قبائلی دشمنیوں کے خاتمے کی کوشش شامل تھی۔یہ وہ مرحلہ تھا جب باچا خان نے محسوس کیا کہ اگر پشتون قوم کو حقیقی معنوں میں مضبوط بنانا ہے تو اسے صرف سیاسی نعرے نہیں بلکہ منظم سماجی تحریک کی ضرورت ہے۔اسی سوچ نے آگے چل کر ایک ایسی تحریک کو جنم دیا جس نے برطانوی حکومت کو بھی حیران کر دیا۔ خدائی خدمتگار تحریک ، خدمت کو سیاست بنا دیا۔ 1929 میں باچا خان نے خدائی خدمتگار تحریک منظم کی۔
خدائی خدمتگار کا مطلب یعنی”خدا کے بندے یا خدا کی خدمت کرنے والے“ اس تحریک کا بنیادی تصور یہ تھا کہ انسانیت کی خدمت دراصل خدا کی خدمت ہے۔
خدائی خدمتگار تحریک ابتدا میں سماجی اصلاح، تعلیم، عوامی خدمت اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے پر مرکوز تھی، لیکن برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد کے ساتھ یہ ایک بڑی سیاسی اور مزاحمتی تحریک بن گئی۔ اس تحریک کے کارکن اپنے مخصوص سرخ لباس کی وجہ سے سرخ پوش یا ریڈ شرٹس کے نام سے بھی مشہور ہوئے۔لیکن ان کے لباس سے زیادہ اہم ان کا نظم و ضبط تھا۔ وہ تشدد کے بجائے عدم تشدد کو اپنا اصول بناتے تھے۔
پشتون اور عدم تشدد ، ایک حیران کن تصور
باچا خان کے فلسفے کا سب سے منفرد پہلو یہ تھا کہ انہوں نے ایک ایسے معاشرے میں عدم تشدد کی بات کی جسے برطانوی حکام اور بیرونی دنیا اکثر جنگجو قوم کے طور پر دیکھتی تھی۔ انہوں نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ بہادری کا مطلب صرف بندوق اٹھانا نہیں۔ ان کے نزدیک اصل بہادری یہ تھی کہ انسان غصے پر قابو رکھے، ظلم کے سامنے ڈٹے، مگر خود ظالم نہ بنے۔ ان کے عدم تشدد کے فلسفے میں صبر، قربانی، نظم و ضبط، خدمت اور اخلاقی قوت بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ باچا خان اور ان کے پیروکاروں نے ایک ایسی سیاسی مزاحمت کھڑی کی جس میں ہزاروں لوگ تشدد کا سامنا کرتے ہوئے بھی اپنے اصول سے پیچھے نہیں ہٹے۔
قصہ خوانی بازار ،جب پشاور نے تاریخ رقم کی
23 اپریل 1930 کو پشاور کے قصہ خوانی بازار میں پیش آنے والا واقعہ باچا خان کی تحریک کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔
برطانوی حکومت نے خدائی خدمتگاروں اور ان کے حامیوں کے خلاف سخت کارروائی کی۔ غیر مسلح مظاہرین پر فائرنگ کی گئی، لیکن تحریک کے کارکنوں نے جوابی تشدد سے گریز کیا۔ قصہ خوانی بازار کا سانحہ اس بات کی علامت بن گیا کہ عدم تشدد صرف ایک تقریر یا نظریہ نہیں بلکہ ایک عملی سیاسی طاقت بھی ہو سکتا ہے۔
یہ واقعہ پشتون تاریخ میں آج بھی اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کہ یہاں ایک طرف جدید اسلحے سے لیس نوآبادیاتی طاقت تھی اور دوسری طرف ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنے اصول کے تحت مزاحمت کا فیصلہ کیا۔
برطانوی حکومت کی قید اور مسلسل آزمائش
باچا خان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ جیلوں، گرفتاریوں اور حکومتی دباؤ میں گزرا۔ برطانوی حکومت نے خدائی خدمتگار تحریک کی مقبولیت اور اس کے منظم ہونے کو اپنے اقتدار کے لیے خطرہ سمجھا۔ کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، تحریک پر دباؤ ڈالا گیا اور باچا خان کو بھی بار بار قید و بند کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ان کی تحریک ختم نہ ہوئی۔ اس کے برعکس، ان کی قربانیوں نے ان کے پیغام کو مزید لوگوں تک پہنچایا۔
گاندھی سے تعلق اور "فرنٹیئر گاندھی"
باچا خان کی زندگی میں مہاتما گاندھی کے ساتھ تعلق بھی اہم حیثیت رکھتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان عدم تشدد اور برطانوی استعمار کے خلاف جدوجہد کے حوالے سے فکری قربت پیدا ہوئی۔ اسی قربت کی وجہ سے باچا خان کو ہندوستان میں "فرنٹیئر گاندھی" کہا جانے لگا۔
تاہم باچا خان کی شناخت صرف گاندھی کے ساتھی کے طور پر محدود نہیں کی جا سکتی۔ وہ اپنی ذات میں ایک بڑے پشتون رہنما، سماجی مصلح اور عدم تشدد کے فلسفی تھے۔ جدید علمی تحقیق بھی ان کے غیر متشدد فلسفے کو ان کے پشتون سماجی اور مذہبی تناظر کے ساتھ دیکھتی ہے۔
1937 اور 1946 ، سیاست میں عوامی طاقت
خدائی خدمتگار تحریک وقت کے ساتھ سیاسی میدان میں بھی مضبوط ہوئی۔1937 اور 1946 کے انتخابات میں خدائی خدمتگاروں نے کانگریس کے ساتھ اتحاد کے ذریعے صوبہ سرحد میں اہم سیاسی کامیابیاں حاصل کیں، جبکہ باچا خان کے بھائی ڈاکٹر خان صاحب صوبائی حکومت کی قیادت تک پہنچے۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ باچا خان کی تحریک صرف احتجاجی تحریک نہیں رہی تھی بلکہ اس نے عوامی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ بھی پیدا کر لیا تھا۔
قیامِ پاکستان اور ایک پیچیدہ سیاسی دور
1947میں برصغیر کی تقسیم نے باچا خان کی سیاست کے سامنے ایک نیا اور پیچیدہ مرحلہ پیدا کیا۔ وہ تقسیمِ ہند کے مخالف تھے اور ان کی سیاسی جماعت نے صوبہ سرحد کے مستقبل کے حوالے سے مختلف سیاسی مطالبات پیش کیے۔
جون 1947 میں بنوں میں ایک جرگہ ہوا جس سے بنوں قرارداد منسوب کی جاتی ہے، جس میں پشتون علاقوں کے لیے الگ سیاسی اختیار کا مطالبہ کیا گیا۔ بعد ازاں صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں صرف بھارت یا پاکستان میں شامل ہونے کے آپشن تھے، جبکہ خدائی خدمتگاروں نے اس ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا۔ یہ دور باچا خان کی زندگی کے سب سے زیادہ بحث طلب سیاسی ادوار میں شمار ہوتا ہے۔
پاکستان بننے کے بعد بھی جدوجہد ختم نہ ہوئی
پاکستان کے قیام کے بعد باچا خان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ ان کی سیاست پر شکوک کا اظہار کیا گیا، ان کی جماعت اور تحریک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور خود باچا خان نے بھی قید و بند کا سامنا کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ پشتون عوام کے حقوق، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور پرامن سیاسی جدوجہد کے لیے کام کر رہے ہیں۔
ان کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے صرف پاکستان یا ہندوستان کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ ان کی پوری زندگی کے بنیادی اصولوں امن، خدمت، تعلیم، جمہوریت اور پشتون سماجی اصلاح کے تناظر میں دیکھا جائے۔
جیلیں آئیں، مگر نظریہ نہیں بدلا
باچا خان کی زندگی میں قید ایک بار نہیں بلکہ بار بار آئی۔ ایک عام سیاست دان کے لیے مسلسل قید سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ بن سکتی تھی، مگر باچا خان کے لیے جیل بھی جدوجہد کا ایک حصہ بن گئی۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال بن گئی کہ کسی شخص کو جسمانی طور پر قید کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر نظریہ لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لے تو اسے قید کرنا آسان نہیں۔
باچا خان اور پشتون عورت
باچا خان کی سماجی فکر میں خواتین کی تعلیم اور معاشرے میں ان کے کردار کو بھی اہمیت حاصل تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر ایک قوم کو تعلیم یافتہ اور مضبوط بنانا ہے تو صرف مردوں کی تعلیم کافی نہیں۔ ایک تعلیم یافتہ ماں ایک پوری نسل کی تربیت کر سکتی ہے۔ یہ سوچ اس زمانے کے قبائلی اور روایتی ماحول میں ایک اہم اصلاحی تصور تھی۔
باچا خان کی نظر میں قوم کی اصل طاقت
باچا خان کی سیاست میں ایک بنیادی تصور بار بار سامنے آتا ہے۔ قوم کی طاقت اس کے لوگوں کے کردار میں ہوتی ہے۔ وہ پشتونوں کو محض ماضی کی بہادریوں پر فخر کرنے کے بجائے مستقبل کی تعمیر کی طرف دیکھنے کی دعوت دیتے تھے۔
ان کے نزدیک پشتون نوجوان کو صرف بہادر نہیں بلکہ
- تعلیم یافتہ ہونا چاہیے
- بااخلاق ہونا چاہیے
- اپنے معاشرے کی خدمت کرنا چاہیے
- اختلاف برداشت کرنا چاہیے
- انتقام کے بجائے صلح کو ترجیح دینی چاہیے
اور اپنے حقوق کے لیے پرامن سیاسی جدوجہد کرنی چاہیے۔
باچا خان اور اسلام
باچا خان کی عدم تشدد کی فکر کو بعض اوقات صرف گاندھی کے فلسفے کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، لیکن ان کی اپنی فکری بنیادوں میں اسلام اور خدمتِ انسانیت بھی اہم عناصر تھے۔ خدائی خدمتگار کے تصور میں یہ خیال مرکزی حیثیت رکھتا تھا کہ انسان کی خدمت خدا کی خدمت ہے۔ اسی لیے ان کی عدم تشدد کی سیاست محض سیاسی حکمت عملی نہیں بلکہ ان کے لیے اخلاقی اور روحانی ذمہ داری بھی تھی۔
ایک ایسا رہنما جس نے بہادری کی تعریف بدل دی
پشتون تاریخ میں بہادری کا تصور روایتی طور پر جنگ، مزاحمت اور ہتھیار سے جڑا رہا ہے۔ باچا خان نے اسی تصور کو چیلنج کیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایک شخص دشمن کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے غصے کو قابو میں رکھ سکتا ہے، ظلم برداشت کر سکتا ہے، بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود معاف کر سکتا ہے اور اپنی قوم کی خدمت جاری رکھ سکتا ہے تو یہ بھی بہادری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باچا خان کا عدم تشدد محض خاموشی نہیں تھا۔ یہ منظم مزاحمت تھی۔
آخری سفر ، جب ایک انسان پوری قوم کی یاد بن گیا
باچا خان 20 جنوری 1988 کو وفات پا گئے۔ ان کی خواہش کے مطابق انہیں افغانستان کے شہر جلال آباد میں دفن کیا گیا۔
ان کی وفات کے وقت افغانستان شدید جنگ کا شکار تھا، لیکن ان کے جنازے کے لیے ایک غیر معمولی موقع پر جنگ بندی ہوئی تاکہ لوگ انہیں آخری الوداع کہہ سکیں۔ ان کی وفات اور تدفین نے ان کی شخصیت کے خطے میں وسیع اثر و احترام کو نمایاں کیا۔
یہ ایک ایسے شخص کا آخری سفر تھا جس نے اپنی زندگی جنگ کے خلاف گزاری، مگر جس کی آخری آرام گاہ بھی جنگ زدہ خطے میں امن کی ایک علامت بن گئی۔
باچا خان اور آج کی نسل
آج جب پشتون معاشرہ تعلیم، بے روزگاری، غربت، سیاسی اختلافات، بدامنی، منشیات، انتہا پسندی اور سماجی مسائل جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے تو باچا خان کی فکر دوبارہ زیرِ بحث آتی ہے۔ ان کا سب سے بڑا سوال شاید آج بھی یہی ہے
ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟
صرف زمین؟
صرف دولت؟
صرف سیاسی نعرے؟
یا پھر تعلیم، شعور، امن اور ایک بہتر معاشرہ؟
باچا خان نے اپنی زندگی کے ذریعے اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی۔
عوامی نیشنل پارٹی اور باچا خان کی فکری میراث
آج عوامی نیشنل پارٹی خود کو باچا خان کی سیاسی اور فکری میراث سے جوڑتی ہے۔کہ سیاست میں جمہوریت، عدم تشدد، پشتون حقوق، صوبائی خودمختاری اور پارلیمانی جدوجہد جیسے تصورات نمایاں رہے ہیں۔ تاہم باچا خان کی میراث کو صرف کسی ایک سیاسی جماعت تک محدود کرنا بھی ان کی تاریخی شخصیت کو محدود کر دیتا ہے۔
باچا خان کی سب سے بڑی میراث ان کا فلسفۂ خدمت، تعلیم، امن اور عدم تشدد ہے۔
باچا خان کا سب سے بڑا ورثہ کیا ہے؟
باچا خان نے نہ کوئی سلطنت بنائی، نہ کوئی فوج بنائی، نہ کوئی دولت جمع کی۔ انہوں نے ایک خیال پیدا کیا۔ انہوں نے ایک خیال پیدا کیا۔ ایک ایسا خیال کہ پشتون صرف جنگجو نہیں، امن کے داعی بھی ہو سکتے ہیں۔ پشتون صرف روایت کے محافظ نہیں، تعلیم کے علمبردار بھی ہو سکتے ہیں۔ پشتون صرف اپنے قبیلے کے لیے نہیں، پوری انسانیت کے لیے خدمت کر سکتے ہیں۔ اور شاید یہی ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔
باچا خان آج بھی کیوں زندہ ہیں؟
تاریخ میں کچھ لوگ مر جاتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کا زمانہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ اپنے وقت سے آگے سوچتے ہیں۔ باچا خان بھی انہی لوگوں میں شامل تھے۔وہ 1988 میں دنیا سے رخصت ہوئے، لیکن تعلیم، خدمت، جمہوریت، امن اور عدم تشدد کا ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے طاقتور نہیں بنتیں۔ قومیں تعلیم سے بیدار ہوتی ہیں، اتحاد سے مضبوط ہوتی ہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہیں اور امن سے ترقی کرتی ہیں۔ باچا خان نے اپنی پوری زندگی پشتون عوام کو یہی راستہ دکھانے کی کوشش کی۔ اسی لیے باچا خان صرف ایک سیاسی رہنما کا نام نہیں۔ وہ پشتون تاریخ کا ایک باب، ایک فکری تحریک اور ایک ایسا سوال ہیں جو ہر نئی نسل سے پوچھتا ہے
"تم اپنی قوم کے لیے کیا کر رہے ہو؟"
