خیبر: کوکی خیل قومی مشران کے رکن ملک نصیر احمد کوکی خیل نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے تیراہ اور ضلع اورکزئی میں جنگلات کی مبینہ غیر قانونی کٹائی کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری ہے، جبکہ اس سنگین معاملے میں بعض سرکاری عناصر کے ملوث ہونے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک نصیر احمد نے کہا کہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی کے باعث علاقے کے قدرتی وسائل کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، تاہم متعلقہ محکمہ جنگلات اس معاملے پر مؤثر کارروائی کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنا ہوا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگلات سے لکڑی لے جانے والی ہر گاڑی سے مبینہ طور پر 7 سے 8 ہزار روپے وصول کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ذمہ دار اداروں کی جانب سے کارروائی نہیں کی جا رہی۔

ملک نصیر احمد کوکی خیل نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کے دور میں بلین ٹری سونامی منصوبے کے ذریعے بڑے پیمانے پر شجرکاری اور جنگلات کے تحفظ کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم موجودہ صورتحال میں جنگلات کی کٹائی کا مبینہ سلسلہ ان اقدامات کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ تیراہ اور اورکزئی میں جنگلات کی مبینہ غیر قانونی کٹائی کا فوری نوٹس لیا جائے اور معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔

قومی مشر نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ مبینہ طور پر اس غیر قانونی سرگرمی میں ملوث عناصر کے نام بھی عوام کے سامنے لائیں گے، تاکہ حقائق سامنے آسکیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ملک نصیر احمد نے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو علاقے کے ماحول اور آنے والی نسلوں کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مبینہ ٹمبر مافیا اور دیگر ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے اور جنگلات کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے جائیں۔