قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل پنڈیالی کے علاقے ڈاگ تمانزئی میں گزشتہ شب آنے والے شدید طوفان نے بڑے پیمانے پر سبزیوں کی ورٹیکل فارمنگ کو شدید نقصان پہنچایا، جہاں تقریباً 25 ایکڑ رقبے پر قائم فارمنگ کا بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا، جبکہ مجموعی طور پر 50 ایکڑ پر کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں۔

متاثرہ زمیندار اسرائیل خان کے مطابق طوفان سے فصلوں اور فارمنگ کے بنیادی ڈھانچے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے 100 جریب اراضی سالانہ 30 لاکھ روپے کے اجارے پر حاصل کر رکھی ہے، جبکہ ورٹیکل فارمنگ کی تیاری، بیج، کھاد، زرعی ادویات، تار، لکڑی، مزدوری اور دیگر اخراجات کی مد میں اب تک تقریباً 3 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

اسرائیل خان نے بتایا کہ گزشتہ شب معمولی بارش کے دوران اچانک آنے والے شدید طوفان نے تقریباً 50 جریب رقبے پر قائم فارمنگ کو بری طرح متاثر کیا، جس میں سے تقریباً 25 ایکڑ پر قائم ڈھانچہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا۔ ان کے مطابق متاثرہ فصلیں تقریباً تیار تھیں، تاہم طوفان سے ہونے والے نقصان کے بعد فارمنگ کا منصوبہ شدید مالی بحران سے دوچار ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تیار سبزیوں کی کٹائی کا کام شروع کر دیا گیا ہے، جس کے لیے تقریباً 25 مزدور کام کر رہے ہیں، جبکہ کٹائی اور صفائی کے عمل پر مزید 6 سے 7 لاکھ روپے خرچ آنے کا امکان ہے۔

زمیندار کے مطابق وہ گزشتہ سات سال سے بڑے پیمانے پر ورٹیکل فارمنگ کے ذریعے مختلف سبزیاں کاشت کر رہے ہیں، جن میں کریلا، آریا، گول کدو، ٹماٹر، مرچ، شملہ مرچ اور بینگن شامل ہیں۔ ان کی پیداوار ملک کی مختلف منڈیوں کے علاوہ اعلیٰ معیار کی سبزیاں خلیجی ممالک کو بھی سپلائی کی جاتی ہیں۔

اسرائیل خان کا کہنا ہے کہ اس فارمنگ سے علاقے کے تقریباً دو درجن مقامی مزدوروں کو مستقل یا موسمی روزگار بھی میسر ہے، تاہم طوفان سے ہونے والے نقصان نے نہ صرف ان کے کاروبار کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی مزدوروں کے روزگار کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔

متاثرہ زمیندار نے صوبائی حکومت، متعلقہ محکموں، ضلعی انتظامیہ اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ طوفان سے ہونے والے نقصانات کا فوری تخمینہ لگایا جائے اور متاثرہ فارمنگ کی بحالی کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے، تاکہ وہ اپنا ذریعہ معاش دوبارہ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ مقامی مزدوروں کو بھی روزگار فراہم کرسکیں۔