چارسدہ میں شہدائے بابڑہ (12 اگست 1948ء) کی 78ویں برسی کے موقع پر عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے یادگارِ شہداء پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہدائے بابڑہ جمہوریت، آزادی، بنیادی حقوق اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت ہیں۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ شہدائے بابڑہ نے اپنی جمہوری حکومت کے غیر آئینی خاتمے کے خلاف پُرامن جدوجہد کی تھی، تاہم اس میدان میں ایک غیر منتخب وزیراعلیٰ کے حکم پر نہتے اور پُرامن خدائی خدمتگاروں پر براہِ راست گولیاں برسائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ خدائی خدمتگاروں کے جلوس کی قیادت کرنے والے سپین ملنگ کو پچاس گولیاں لگیں، جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے، تاہم انہوں نے آخری دم تک قومی تحریک کا جھنڈا بلند رکھا۔ خدائی خدمتگار یکے بعد دیگرے شہید ہوتے رہے، مگر کسی نے قومی تحریک کا پرچم زمین پر نہیں گرنے دیا۔ ان کے مطابق اس سانحے میں 600 سے زائد خدائی خدمتگار شہید ہوئے۔
اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر نے کہا کہ شہداء کے اہلِ خانہ اور زخمی ہونے والے افراد پر بھی گولیوں کی لاگت کے عوض جرمانے عائد کیے گئے۔ کئی شہداء کو ایک ہی قبر میں اجتماعی طور پر سپردِ خاک کیا گیا، جبکہ بعض شہداء کی لاشوں کو سرکاری اہلکاروں نے زبردستی پانی میں بہا دیا۔
میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ جن افراد کے پاس سانحہ بابڑہ سے متعلق ریکارڈ موجود تھا، انہیں ڈرایا دھمکایا گیا، جبکہ خدائی خدمتگاروں کی جانب سے واقعے کی رپورٹ تک درج نہیں کی گئی۔
انہوں نے اعلان کیا کہ عوامی نیشنل پارٹی کو دوبارہ حکومت ملی تو سانحہ بابڑہ کے مقدمے کو ازسرِنو کھولا جائے گا اور اس حوالے سے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ پُرامن جلوس اور نہتے شہریوں پر براہِ راست فائرنگ ظلم کی انتہا تھی، اس سانحے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانونی اور عدالتی کارروائی ہونی چاہیے۔
میاں افتخار حسین نے کہا کہ بابڑہ کے شہداء کی قربانیوں، عزم اور جدوجہد کا سبق باچا خان اور خدائی خدمتگار تحریک سے ہوتا ہوا آج کی نسل تک پہنچا ہے۔ شہدائے بابڑہ کی قربانیوں کا پیغام اور جدوجہد کا سبق اگلی نسلوں تک منتقل کرنا موجودہ نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دن شہدائے بابڑہ سمیت قومی تحریک اور امن کے تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے وطن کے امن، جمہوریت اور قوم کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
