پشاور: خیبر پختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں طویل عرصے سے جاری بدامنی، تشدد اور مسلسل نقل مکانی نے خواتین کی ذہنی صحت کو شدید متاثر کیا ہے۔ متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والی خواتین نہ صرف گھروں سے محرومی، معاشی مشکلات اور بچوں کے مستقبل کی فکر سے دوچار ہیں بلکہ خوف، ذہنی دباؤ، بے خوابی، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کر رہی ہیں۔
ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے دور افتادہ علاقے وادی تیراہ سے رواں سال جنوری میں دوبارہ نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوکر مختلف علاقوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔
وادی تیراہ سے اس سے قبل 2013 میں مسلح گروہوں کے خلاف فوجی آپریشن کے باعث بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی تھی، جس کے بعد تقریباً ایک سال بعد متاثرین کی اپنے علاقوں میں مرحلہ وار واپسی شروع ہوئی۔ تاہم 2021 کے اواخر میں علاقے میں ایک بار پھر بدامنی کے واقعات شروع ہوئے اور رواں سال جنوری میں وادی تیراہ سے دوبارہ نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
تحریکِ متاثرین وادی تیراہ کے مطابق اب تک 40 ہزار سے زائد خاندان بے گھر ہوچکے ہیں۔
مسلسل خوف نے خواتین کی ذہنی صحت متاثر کردی
پچاس سالہ شال بی بی کا تعلق وادی برقمبرخیل کے علاقے دوربی خیل سے ہے۔ وہ اس وقت اپنے رشتہ داروں کے ہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں خاندان کے دیگر آٹھ افراد کے ساتھ رہ رہی ہیں۔
علاقے میں مسلسل پرتشدد واقعات کے باعث انہیں ایک طرف گھر سے نقل مکانی کا صدمہ برداشت کرنا پڑا، جبکہ دوسری جانب وہ شدید نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگئیں اور اب پشاور کے ایک سرکاری اسپتال سے علاج کروا رہی ہیں۔
شال بی بی کے مطابق ان کے علاقے میں ڈرون حملے، فائرنگ، زخمی ہونے اور ہلاکتوں کے واقعات معمول بن چکے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہر وقت اپنے خاندان کے افراد کی جانوں کے بارے میں خوف رہتا تھا۔ شدید ذہنی دباؤ کے باعث کئی کئی راتیں وہ سو نہیں پاتی تھیں اور بھوک کا احساس بھی ختم ہوگیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باوجود وہ پشاور کے ایک سرکاری اسپتال سے اپنے نفسیاتی مسائل کا علاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تین سال کی بدامنی میں جانی و مالی نقصان
تحریکِ متاثرین وادی تیراہ کے ترجمان صحبت خان آفریدی کے مطابق گزشتہ تین سال کے دوران تیراہ میں مارٹر شیلنگ، ڈرون پروازوں اور حملوں، سیکیورٹی فورسز اور مسلح گروہوں کے درمیان جھڑپوں، فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات معمول رہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
صحبت آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ڈھائی سے تین سال کے دوران 150 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق زخمی ہونے والے افراد میں سے تقریباً 20 فیصد مستقل طور پر معذور ہوچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل بدامنی اور نقل مکانی کے باعث متاثرہ خاندانوں میں ذہنی دباؤ، بے چینی اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔
باڑہ کے اسپتال میں نفسیاتی ماہر موجود نہیں
ضلع خیبر گزشتہ دو دہائیوں سے بدامنی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔ تحصیل باڑہ کی تقریباً سات آبادیوں کے لیے موجود ٹائپ ڈی اسپتال ڈوگرہ بھی طبی سہولیات کی کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے ہزاروں خاندانوں کی آمد نے صحت سمیت دیگر شعبوں پر بھی اضافی بوجھ ڈال دیا ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق یہاں نہ صرف مقامی آبادی بلکہ وادی تیراہ کے بے گھر خاندان، ضلع اورکزئی اور پشاور کے مضافاتی علاقوں شیخان، سنگو، سربند اور اچینی سے بھی بڑی تعداد میں مریض علاج کے لیے آتے ہیں۔
حکام کے مطابق اسپتال میں سرکاری سطح پر نفسیاتی مسائل کے علاج کے لیے کوئی مستقل ڈاکٹر یا ماہرِ نفسیات تعینات نہیں۔ کچھ عرصہ قبل ایک غیر سرکاری ادارے کی جانب سے خاتون ماہرِ نفسیات کو چند ماہ کے لیے تعینات کیا گیا تھا۔
خواتین، خصوصاً حاملہ اور نئی ماؤں کو زیادہ خطرہ
ماہرِ نفسیات سدرہ بتول کے مطابق نقل مکانی اور بے گھر ہونے کی صورتحال میں خواتین، خصوصاً حاملہ خواتین اور بچے کی پیدائش کے بعد کے مرحلے سے گزرنے والی ماؤں میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ان کے مطابق گھر، بچوں اور مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال خواتین کے ذہنی تناؤ میں مزید اضافہ کرتی ہے، جبکہ مناسب طبی اور نفسیاتی سہولیات کی عدم دستیابی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
سدرہ بتول کا کہنا تھا کہ متاثرہ خواتین کی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ ذہنی صحت پر بھی خصوصی توجہ دینا ضروری ہے، کیونکہ ہمارے معاشرے میں ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کو اکثر بیماری نہیں سمجھا جاتا، جس کے باعث خواتین بروقت ماہرِ نفسیات سے رجوع نہیں کرتیں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں متاثرہ خواتین کے لیے نفسیاتی مشاورت اور باقاعدہ ذہنی صحت کی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ خاندان کے افراد کو بھی خواتین کی ذہنی صحت پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ذہنی دباؤ کا اثر نہ صرف خواتین کی اپنی زندگی بلکہ بچوں کی نگہداشت اور تربیت پر بھی پڑ سکتا ہے۔
“رات کو نیند آئے تو ڈراؤنے خواب آتے ہیں”
پچاس سالہ حاجرہ بی بی بھی وادی تیراہ سے نقل مکانی کرکے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تیراہ میں ان کی زندگی پُرسکون تھی، لیکن نقل مکانی نے ان کا سکون چھین لیا۔
حاجرہ بی بی کے مطابق:
“یہاں آکر مختلف بیماریوں نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ پہلے نیند نہیں آتی، اور اگر مشکل سے نیند آجائے تو وہی ڈراؤنے خواب آتے ہیں، جن میں تین سال تک برداشت کی گئی گولیوں کی آوازیں اور افراتفری دوبارہ نظر آتی ہے۔”
انہوں نے بتایا کہ شدید ذہنی دباؤ کے باعث سر میں درد رہتا ہے اور جب تکلیف حد سے بڑھ جائے تو مقامی ڈسپنسر سے علاج کرواتی ہیں۔ ان کے مطابق انجکشن اور نیند کی گولیاں لینے سے عارضی سکون ملتا ہے۔
“خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ نفسیاتی نقصان پہنچا”
قبائلی اضلاع میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن نوشین فاطمہ اورکزئی کے مطابق پورے پشتون خطے میں گزشتہ دو دہائیوں سے جاری شورش اور غیر یقینی صورتحال نے خواتین اور بچوں کو جسمانی اور نفسیاتی طور پر سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متاثرہ خواتین کی بحالی اور علاج کے لیے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں محکمہ صحت کی جانب سے خاطر خواہ انتظامات موجود نہیں۔
نوشین فاطمہ کے مطابق بعض غیر سرکاری تنظیمیں نفسیاتی مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہیں، تاہم یہ کوششیں ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔ انہوں نے محکمہ صحت اور غیر سرکاری اداروں سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ علاقوں میں ذہنی صحت کی سہولیات کے لیے مزید مؤثر اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔
نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور ادویات کے غیر محتاط استعمال کا رجحان
باڑہ کیمسٹ یونین کے صدر منصف آفریدی کے مطابق ان دنوں نوجوانوں کی بڑی تعداد ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور بعض افراد ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر نیند یا دیگر نفسیاتی اثر رکھنے والی ادویات خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد مستقبل میں ادویات کے عادی بھی ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یونین کی سطح پر تمام میڈیکل اسٹور مالکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ ڈاکٹر کے نسخے کے بغیر ایسی ادویات فروخت نہ کی جائیں، تاہم اس حوالے سے شکایات اب بھی سامنے آتی ہیں۔
منصف آفریدی کے مطابق بعض نشہ آور یا غلط استعمال ہونے والی ادویات کی دستیابی صرف میڈیکل اسٹورز تک محدود نہیں بلکہ بعض جنرل اسٹورز پر بھی ایسی ادویات فراہم کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جو تشویش ناک امر ہے۔
متاثرین میں ذہنی دباؤ کی شرح تشویشناک
تحریکِ متاثرین تیراہ کے ترجمان صحبت آفریدی کے مطابق وادی تیراہ سے بے گھر ہونے والے متاثرین طویل عرصے سے بے گھری، مسلسل نقل مکانی، بے روزگاری اور معاشی مشکلات کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ تقریباً 25 فیصد متاثرین ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن جیسے مسائل سے متاثر ہیں، جن میں خواتین کی تعداد زیادہ ہے۔ بچوں، بزرگوں اور خاندان کے سربراہوں کو بھی شدید ذہنی اذیت کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وادی تیراہ سے بے گھر ہونے کے بعد ہزاروں افراد روزگار سے محروم ہوگئے، جس کے باعث خاندان کی کفالت، بچوں کے مستقبل اور بزرگوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔
صحبت آفریدی کے مطابق اپنے گھروں سے دوری اور باعزت واپسی میں مسلسل تاخیر نے متاثرین کی ذہنی اور سماجی زندگی پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
“ہماری بنی بنائی دنیا اجڑ گئی”
چالیس سالہ شال بی بی کا تعلق تیراہ کے علاقے بھوٹان شریف سے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدامنی اور نقل مکانی سے قبل وہ پُرسکون زندگی گزار رہی تھیں، لیکن بدلتے حالات نے سب کچھ تباہ کردیا۔
انہوں نے کہا:
“ہماری بنی بنائی دنیا اجڑ گئی ہے۔ ہمارے مرد بے روزگار ہوگئے، بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور وادی میں موجود ہمارا گھر شدید موسم کی وجہ سے دوبارہ رہنے کے قابل نہیں رہا۔”
شال بی بی کے مطابق جب وہ اپنے مسائل کے بارے میں سوچتی ہیں تو زندگی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کیا تو انہیں صرف نیند کی گولیاں تجویز کی گئیں، تاہم اس کے باوجود ذہنی دباؤ میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی۔
حکومت سے جامع ذہنی صحت پروگرام شروع کرنے کا مطالبہ
صحبت آفریدی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک حکومت کی جانب سے متاثرین کی ذہنی صحت، آگاہی، نفسیاتی مشاورت اور بحالی کے لیے کوئی جامع پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان اور حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ متاثرین کے لیے فوری طور پر ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہم، مفت علاج، نفسیاتی مشاورت، بحالی کی سہولیات اور باعزت واپسی کے عملی اقدامات شروع کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندان دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ سکیں۔
طویل مدتی نفسیاتی خدمات ناگزیر ہیں: ماہرِ نفسیات
ماہرِ نفسیات عالم آفریدی کے مطابق جنگ اور مسلح تنازعات سے متاثرہ خواتین کے ذہنی مسائل کے حل کے لیے باقاعدہ نفسیاتی علاج اور مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے متاثرہ افراد کو محفوظ اور پُرسکون ماحول فراہم کرنا ضروری ہے، جبکہ خواتین کے لیے باقاعدہ نفسیاتی کاؤنسلنگ اور ٹراما فوکسڈ تھراپی کی سہولت فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے خوف، صدمے اور تکلیف دہ تجربات کا اظہار کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ شدید ڈپریشن، اضطراب یا پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کی صورت میں ماہرِ نفسیات سے معائنہ اور ضرورت کے مطابق علاج ضروری ہے۔
عالم آفریدی کے مطابق ذہنی صحت کی بحالی صرف ادویات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ متاثرہ خواتین کو خاندان اور معاشرے کی معاونت، معاشی خودمختاری، تعلیم اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جانے چاہئیں، کیونکہ مالی عدم تحفظ اور سماجی تنہائی ذہنی مسائل کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
ان کے مطابق جنگ اور بدامنی سے متاثرہ خواتین کی ذہنی صحت کی بحالی کے لیے مستقل اور طویل مدتی نفسیاتی خدمات کو صحت کے نظام اور متاثرہ علاقوں کی بحالی کے پروگراموں کا باقاعدہ حصہ بنانا ضروری ہے۔
