باڑہ: رکن صوبائی اسمبلی اور ڈیڈک چیئرمین خیبر عبدالغنی آفریدی نے کہا ہے کہ 12 اگست کو خیبر سے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے لیے اسٹریٹ موومنٹ کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا، جس میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی اور بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان بھی شرکت کریں گی۔

باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالغنی آفریدی کا کہنا تھا کہ 12 اگست خیبر کی تاریخ کا اہم دن ہوگا، جب بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنان اور رہنماؤں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ ہر قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کے بقول عمران خان کو جیل میں تقریباً تین سال مکمل ہونے والے ہیں، جو ان کے خیال میں ظلم اور جبر کی ایک مثال ہے۔

عبدالغنی آفریدی نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو لانگ مارچ کے دوران 20 لاکھ افراد کو اسلام آباد لایا جائے گا اور بانی و قائدِ پی ٹی آئی کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ 12 اگست کو خیبر سے شروع ہونے والی تحریک کو بعد ازاں ملک بھر میں وسعت دی جائے گی اور کارکنان بڑی تعداد میں اسلام آباد پہنچیں گے۔

رکن صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ جبر کا دور ختم ہونا چاہیے اور جب تک بانی پی ٹی آئی کو رہا نہیں کیا جاتا، اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جتنا بھی دباؤ ڈالے، کارکن اپنے قائد کی رہائی کے لیے پُرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

پریس کانفرنس کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے سرکردہ رہنماؤں محب اللہ آفریدی، سعیداللہ آفریدی، افتخار آفریدی، عبداللہ آفریدی، نذیر جان سمیت دیگر کارکنان بھی موجود تھے۔