باڑہ: تحریک متاثرینِ تیراہ کے زیر اہتمام باڑہ پریس کلب کے باہر قائم احتجاجی کیمپ میں گرینڈ مشاورتی جرگہ منعقد ہوا، جس میں تیراہ متاثرین کی واپسی، آبادکاری اور حکومت کے ساتھ طے پانے والے 37 نکاتی معاہدے پر عملدرآمد سمیت آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
جرگے میں شریک سیاسی، سماجی اور قومی رہنماؤں سمیت متاثرین کے نمائندوں نے مطالبات پر عملدرآمد میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا۔ شرکاء نے فیصلہ کیا کہ حکومت کو دی گئی 10 اگست کی ڈیڈلائن تک انتظار کیا جائے گا اور اس دوران حکومتی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔
شرکاء نے واضح کیا کہ اگر مقررہ ڈیڈلائن تک متاثرین کے مطالبات اور 37 نکاتی معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے مؤثر پیش رفت نہ ہوئی تو 14 اگست کو باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام ہونے والے پروگرام میں مشترکہ احتجاج کیا جائے گا۔
جرگے میں احتجاج کو مؤثر اور کامیاب بنانے کے لیے سیاسی، سماجی، قومی اور متاثرین کے نمائندوں کو متحرک کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
شرکاء نے آئندہ کے مشترکہ لائحہ عمل کو حتمی شکل دینے کے لیے 16 اگست کو باڑہ پریس کلب میں دوبارہ مشاورتی جرگہ طلب کرنے کا فیصلہ کیا۔
گرینڈ جرگے میں مختلف سیاسی جماعتوں، قومی و سماجی تنظیموں، قومی کونسلوں، جوان اتحاد، خدمتِ خلق کمیٹیوں، صحافیوں، سوشل میڈیا نمائندگان اور تیراہ متاثرین کے نمائندوں سمیت مختلف اقوام کے مشران اور رہنماؤں نے شرکت کی۔
اس موقع پر مقررین نے کہا کہ تیراہ متاثرین کی باعزت واپسی، مستقل آبادکاری اور 37 نکاتی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے حکومت کو محض اعلانات کے بجائے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تیراہ متاثرین کے حقوق کے حصول، واپسی اور آبادکاری کے مطالبات کی منظوری تک مشترکہ جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔
