اسلام آباد: پاکستان میں بچوں کے خلاف جنسی استحصال، اغوا، لاپتا ہونے اور کم عمری کی شادی جیسے جرائم بدستور تشویش کا باعث ہیں۔ اگرچہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں معمولی کم ہوئی ہے، تاہم اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کو درپیش بنیادی خطرات میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم ساحل کی تازہ ششماہی رپورٹ کے مطابق، جنوری سے جون 2026 کے دوران ملک بھر میں بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے 1,914 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ اعداد و شمار پاکستان کے چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے شائع ہونے والے 81 قومی، علاقائی اور مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے کیسز کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے پہلے چھ ماہ میں بچوں کے خلاف تشدد اور استحصال کے 1,956 واقعات رپورٹ ہوئے تھے، یوں رواں سال اسی عرصے کے مقابلے میں 42 کیسز کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون کے دوران اوسطاً روزانہ تقریباً 11 بچے کسی نہ کسی شکل میں تشدد یا استحصال کا شکار ہونے کے طور پر رپورٹ ہوئے۔
جنسی استحصال اور اغوا نمایاں جرائم
رپورٹ کے مطابق بچوں کے خلاف رپورٹ ہونے والے جرائم میں جنسی استحصال سب سے نمایاں رہا۔ مجموعی طور پر 1,015 کیسز جنسی استحصال سے متعلق تھے، جبکہ 558 بچوں کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
اس کے علاوہ 101 بچے لاپتا قرار دیے گئے، جبکہ 35 واقعات کم عمری کی شادی سے متعلق تھے۔
رپورٹ میں جنسی استحصال سے منسلک 98 پورنوگرافی کے کیسز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اسی طرح 49 شیر خوار بچوں کو سڑک کنارے یا دیگر مقامات پر لاوارث حالت میں پائے جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
جرائم کی درجہ بندی کے مطابق اغوا مجموعی کیسز کا تقریباً 29 فیصد جبکہ زیادتی اور لواطت کے مشترکہ واقعات تقریباً 28 فیصد رہے۔ اس کے علاوہ اغوا کے ساتھ زیادتی، اجتماعی زیادتی، محرم رشتہ داروں کی جانب سے جنسی استحصال اور دیگر سنگین نوعیت کے جرائم بھی رپورٹ ہوئے۔
11 سے 15 سال کے بچے سب سے زیادہ متاثر
عمر کے لحاظ سے 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ متاثرین میں شامل رہے۔ اس عمر کے 598 کیسز رپورٹ ہوئے، جو مجموعی تعداد کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں۔
اس کے بعد 16 سے 18 سال کی عمر کے 356 اور 6 سے 10 سال کی عمر کے 329 بچے متاثرین میں شامل تھے۔
پانچ سال یا اس سے کم عمر بچوں کے 95 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ تقریباً ایک چوتھائی واقعات میں متاثرہ بچے کی عمر میڈیا رپورٹس میں درج نہیں کی گئی۔
لڑکیاں مجموعی طور پر زیادہ متاثر، بعض جرائم میں لڑکے بھی نمایاں
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر متاثرہ بچوں میں 58 فیصد لڑکیاں اور 42 فیصد لڑکے شامل تھے۔
تاہم جنسی استحصال سے منسلک پورنوگرافی کے کیسز میں صورتحال مختلف رہی۔ ان واقعات میں متاثرین میں 59 فیصد لڑکے اور 41 فیصد لڑکیاں شامل تھیں۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ مجموعی طور پر لڑکیاں زیادہ متاثرہ گروہ ہیں، لیکن بعض مخصوص جرائم میں لڑکے بھی نمایاں تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں۔
زیادہ تر ملزمان بچے کے جاننے والے
رپورٹ کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم میں مبینہ ملزمان کی ایک بڑی تعداد متاثرہ بچے یا اس کے خاندان کے جاننے والوں پر مشتمل تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق 43 فیصد کیسز میں مبینہ ملزم ایسا شخص تھا جسے متاثرہ بچہ یا اس کا خاندان جانتا تھا، جبکہ 34 فیصد واقعات میں ملزم اجنبی تھا۔ باقی کیسز میں ملزم کی شناخت یا بچے سے اس کے تعلق کی تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جاننے والوں، رشتہ داروں، والد، چچا، مذہبی اساتذہ اور پڑوسیوں سمیت ایسے افراد کا مجموعی تناسب اجنبی ملزمان کے مقابلے میں زیادہ رہا جو بچے یا خاندان کے سماجی اور اعتماد کے دائرے میں شامل تھے۔
یہ صورتحال اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کا ایک بڑا حصہ ایسے افراد سے منسلک ہو سکتا ہے جو پہلے ہی بچے کے اعتماد یا سماجی ماحول کا حصہ ہوتے ہیں۔
گھر بچوں کے لیے سب سے زیادہ رپورٹ ہونے والا مقام
واقعات کے مقام سے متعلق اعداد و شمار بھی قابل تشویش ہیں۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 45 فیصد کیسز متاثرہ بچے کے اپنے گھر میں پیش آئے، جبکہ 18 فیصد واقعات ملزم کے گھر میں رپورٹ ہوئے۔
اس کے مقابلے میں صرف 3 فیصد کیسز کھلے مقامات پر پیش آنے کی اطلاع ملی۔
متعدد واقعات میں جائے وقوعہ کی تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بچوں کو لاحق خطرات صرف عوامی مقامات تک محدود نہیں بلکہ گھریلو اور سماجی ماحول میں بھی موجود ہیں۔
پنجاب میں سب سے زیادہ کیسز رپورٹ
جغرافیائی اعتبار سے پنجاب میں بچوں کے خلاف جرائم کے سب سے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے، جہاں مجموعی واقعات کا تقریباً 80 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کا حصہ 15 فیصد رہا، جبکہ باقی کیسز خیبر پختونخوا، بلوچستان، اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان سے رپورٹ ہوئے۔
ضلعی سطح پر فیصل آباد 337 کیسز کے ساتھ سرفہرست رہا۔
اس کے بعد ملتان 185، لاہور 121، گوجرانوالہ 111، قصور 110، رحیم یار خان 97، راولپنڈی 78، وہاڑی 70، سیالکوٹ 64 اور ٹوبہ ٹیک سنگھ 61 کیسز کے ساتھ نمایاں اضلاع میں شامل رہے۔
اعداد و شمار کی حدود بھی مدنظر رکھنا ضروری
ساحل کی رپورٹ میں شامل اعداد و شمار ان واقعات پر مبنی ہیں جو اخبارات میں رپورٹ ہوئے، اس لیے یہ پاکستان میں بچوں کے خلاف جرائم کی مکمل تعداد یا اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے۔
بہت سے واقعات رپورٹ نہ ہونے، قانونی کارروائی تک نہ پہنچنے یا میڈیا میں جگہ نہ ملنے کے باعث ان اعداد و شمار میں شامل نہیں ہو سکتے۔
اس کے باوجود رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جنسی استحصال اور اغوا بچوں کے خلاف بدستور نمایاں جرائم ہیں، کم عمر بچے بھی بڑی تعداد میں متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ متعدد واقعات میں مبینہ ملزمان بچے کے قریبی سماجی یا خاندانی دائرے سے تعلق رکھتے ہیں۔
رواں سال کیسز کی مجموعی تعداد میں معمولی کمی ضرور دیکھی گئی ہے، تاہم یہ کمی بچوں کے تحفظ کو درپیش خطرات میں بنیادی بہتری کی علامت قرار نہیں دی جا سکتی۔ رپورٹ کے اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے نظام، مؤثر رپورٹنگ، آگاہی اور بروقت قانونی و ادارہ جاتی کارروائی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بدستور موجود ہے۔
