پوسٹ گریجویٹ گرلز ڈگری کالج سیدو شریف میں منعقدہ پہلی ویمن ریسرچ سیمینار 2026ء میں سوات کی طالبات پر زور دیا گیا کہ وہ سائنسی تحقیق، کوہ پیمائی، موسمیاتی تبدیلی، حیاتیاتی تنوع اور پہاڑی ماحول کے تحفظ جیسے شعبوں میں آگے بڑھیں اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی علمی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
شین الپائن ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار کا موضوع ’’پائیدار پہاڑی ترقی اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے سائنسی تحقیق‘‘ تھا۔ سیمینار میں کالج کے مختلف شعبوں میں بی ایس پروگرامز میں زیر تعلیم بڑی تعداد میں طالبات نے شرکت کی۔
سیمینار سے نمرا احمد اور ماریا نے خطاب کیا۔ نمرا احمد سینٹرل ساؤتھ یونیورسٹی، چانگشا، چین میں ماسٹرز ریسرچ کر رہی ہیں، جبکہ ہیفی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چین میں پی ایچ ڈی کی طالبہ ہیں۔
نمرا احمد نے طالبات کو سائنسی تحقیق، تحقیقی طریقۂ کار اور تحقیق پر مبنی سوچ کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوات جیسے پہاڑی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز، حیاتیاتی تنوع اور ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے تحقیق کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
انہوں نے نوجوان خواتین پر زور دیا کہ وہ تحقیق کے شعبے میں آگے بڑھیں اور قومی و بین الاقوامی سطح پر دستیاب تعلیمی و تحقیقی مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
کالج کی پرنسپل ریحانہ عرفان نے ویمن ریسرچ سیمینار کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ سوات کی طالبات کا کوہ پیمائی، موسمیاتی تبدیلی، چٹانوں اور گلیشیئرز پر چڑھائی جیسے منفرد شعبوں کا انتخاب قابلِ تعریف ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور ڈیٹا، علم، مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹنگ کا دور ہے، اس لیے طالبات کو محض ڈگری کے حصول تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ خالص، معیاری اور عملی علم حاصل کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ طالبات کو روایتی شعبوں تک محدود رہنے کے بجائے نئے اور پیشہ ورانہ شعبوں میں قدم رکھنا چاہیے اور اپنی علمی و فنی صلاحیتوں کو معاشرے کی بہتری اور خطے کی پائیدار ترقی کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
شین الپائن ایسوسی ایشن کی چیئرپرسن ماریا نے ایسوسی ایشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شین الپائن ایسوسی ایشن سوات میں خواتین کی پہلی ایسی ایسوسی ایشن ہے جو کوہ پیمائی اور پہاڑی ماحول سے متعلق سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
انہوں نے ماؤنٹین وائلڈرنس انٹرنیشنل کے ساتھ ایسوسی ایشن کے تعلق کا بھی ذکر کیا اور اس کے بانی معروف اطالوی کوہ پیما کارلو البرٹو پنیلی کی خدمات کو اجاگر کیا، جنہیں پاکستان کا ستارۂ امتیاز بھی مل چکا ہے۔
ماریا کے مطابق کارلو البرٹو پنیلی نے کوہ پیمائی کی ایسی تحریک کی بنیاد رکھی جس میں ماحولیاتی تحفظ کو بنیادی ترجیح حاصل رہی۔
مقررین نے کہا کہ سوات جیسے پہاڑی خطوں میں موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز، حیاتیاتی تنوع، ادویاتی پودوں اور پائیدار ترقی کے حوالے سے تحقیق کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ نوجوان خواتین ان شعبوں میں تحقیق کے ذریعے نہ صرف اپنے لیے نئے پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرسکتی ہیں بلکہ علاقے کے قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔
سیمینار کے اختتام پر طالبات کو تحقیق، سائنسی تعلیم، ماحولیاتی شعور اور پیشہ ورانہ مواقع کے ذریعے بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ مقررین نے طالبات پر زور دیا کہ وہ سوات کے پہاڑی ماحول، حیاتیاتی تنوع اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کریں۔
