وادی تیراہ میں ممکنہ سیکیورٹی آپریشن کے تناظر میں متاثرین کی رجسٹریشن کا عمل بدستور جاری ہے، تاہم عوام کو مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے مجموعی سیکیورٹی صورتحال کی خرابی کے باعث تیراہ کے مکین غیر رسمی طور پر نقل مکانی کر رہے تھے، تاہم بعد ازاں 24 رکنی جرگہ کمیٹی اور حکام کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد باضابطہ طور پر نقل مکانی کا اعلان کیا گیا۔
جرگہ مشران کے مطابق مساجد میں اعلانات کے بعد مکمل نقل مکانی کے لیے 10 جنوری سے 25 جنوری تک کی مہلت دی گئی تھی، تاہم 25 جنوری کے بعد شدید برفباری کے باعث یہ عمل مؤخر ہو کر 5 فروری تک جا پہنچا۔
ابتدائی مرحلے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دوا توئی کے مقام پر ٹوکن جاری کیے گئے جبکہ پیندی چینہ میں رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا۔ متاثرین کی بڑی تعداد کے باعث یہاں شدید رش دیکھنے میں آیا۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورۂ تیراہ کے دوران پیندی چینہ میں صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد ہر قبیلے کے لیے الگ الگ رجسٹریشن پوائنٹس قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے مجموعی طور پر چھ رجسٹریشن پوائنٹس قائم کیے، جہاں متاثرین کی رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے۔
تاہم رجسٹریشن کے دوران متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ کہیں پولیو ڈیٹا کی عدم موجودگی اور کہیں مستقل پتے (ایڈریس) کے مسائل اندراج میں رکاوٹ بنے۔ بعد ازاں 24 رکنی تیراہ کمیٹی اور مشران کی تصدیق کے بعد ایسے خاندانوں کی رجسٹریشن ممکن بنائی گئی۔
رجسٹریشن مکمل ہونے کے بعد متاثرین کو ٹرانسپورٹ کی مد میں امداد فراہم کی جا رہی ہے، جس کے لیے باڑہ میں الحاج محمد شاہ حجرہ پر الگ پوائنٹ قائم کیا گیا ہے۔ اس پوائنٹ پر صرف رجسٹرڈ متاثرین کو ٹوکن کے ذریعے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے
چار وہیل گاڑی: 22 ہزار روپے
چھ وہیل گاڑی: 45 ہزار روپے
دس وہیلر: 85 ہزار روپے
ضلعی انتظامیہ کے مطابق خوراک اور کرایہ کی مد میں 31 جنوری تک مجموعی طور پر 92 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک 25 ہزار سے زائد خاندان رجسٹریشن کرا چکے ہیں، تاہم پولیو ڈیٹا اور مشران کی تصدیق کے بعد صرف 3,500 خاندانوں کی رجسٹریشن کو درست قرار دیا گیا ہے۔ ان خاندانوں کو معاہدے کے مطابق فی خاندان 2 لاکھ 50 ہزار روپے سم کے ذریعے منتقل کیے جائیں گے۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے اور مزید متاثرین کے اندراج کا امکان ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ڈیٹا کے مطابق تیراہ کے 19 ہزار خاندان رجسٹرڈ ہیں، تاہم دوہرے پتوں (ڈبل ایڈریس) کے باعث متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
