تاروبا: ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ کے لیے پاکستان کرکٹ ٹیم کی پلیئنگ الیون میں کی گئی تبدیلی نے کرکٹ حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بولر محمد عباس کو ٹیم سے باہر رکھنے کے فیصلے پر سابق کرکٹرز، ماہرین اور شائقین حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔

محمد عباس نے تاروبا میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں، جن میں ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کی عمدہ کارکردگی بھی شامل تھی۔ تاہم ان کی بہترین بولنگ کے باوجود پاکستان کو بیٹنگ لائن کی ناکامی کے باعث 90 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پہلے ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد قومی ٹیم کی انتظامیہ نے دوسرے اور فیصلہ کن میچ کے لیے پلیئنگ الیون میں چار تبدیلیاں کیں۔ انہی تبدیلیوں کے تحت محمد عباس کی جگہ نوجوان فاسٹ بولر عبید شاہ کو ٹیسٹ ڈیبیو کا موقع دیا گیا، جس کے بعد ٹیم مینجمنٹ کے فیصلے پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھنے لگے۔

ڈیبیو میچ میں عبید شاہ کا آغاز توقعات کے مطابق نہ رہا۔ انہوں نے ابتدائی نو اوورز میں 56 رنز دیے، جس کے بعد سوشل میڈیا اور کرکٹ تجزیہ کاروں کی جانب سے ٹیم انتظامیہ کے فیصلے پر مزید تنقید سامنے آنے لگی۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق، کسی ایسے بولر کو باہر بٹھانا جس نے گزشتہ میچ میں آٹھ وکٹیں حاصل کی ہوں، غیر معمولی فیصلہ ہے۔ اب تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا پاکستان ٹیم کی یہ حکمت عملی فیصلہ کن ٹیسٹ میں کامیابی دلا پاتی ہے یا محمد عباس کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ آئندہ بھی بحث اور تنقید کا موضوع بنا رہے گا۔