کسی بھی قوم کی جامعات محض ڈگریاں تقسیم کرنے والے ادارے نہیں ہوتیں بلکہ انسانی سرمایہ، تحقیق اور معیشت کی ضروریات کے مطابق افرادی قوت تیار کرنے کا مرکز ہوتی ہیں۔ مگر پاکستان، خصوصاً خیبر پختونخوا کی سرکاری جامعات، اس وقت ایک ایسے بحران سے دوچار ہیں جہاں داخلے مسلسل کم ہو رہے ہیں، فارغ التحصیل نوجوان بے روزگاری کا شکار ہیں اور والدین کا اعتماد متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ محض مالی مشکلات کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسے تعلیمی نظام کی عکاسی ہے جو وقت کے ساتھ اپنی سمت کھو بیٹھا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا کی جامعات اور ملحقہ کالجوں میں مجموعی داخلے 2022ء میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھے، جو 2025ء میں کم ہو کر ایک لاکھ پچپن ہزار رہ گئے۔ جامعہ پشاور، جو صوبے کی سب سے بڑی اور قدیم درسگاہ ہے، وہاں داخلوں میں تقریباً پچاس فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ چھ ہزار نشستوں کی گنجائش رکھنے والی جامعہ میں بی ایس پروگرام میں صرف تقریباً 2,800 طلبہ داخل ہوئے، جبکہ کم داخلوں کے باعث فال 2025ء میں نو شعبے بھی بند کرنا پڑے۔

داخلوں میں کمی کا براہِ راست اثر جامعات کی مالی حالت پر پڑ رہا ہے۔ صوبے کی 34 سرکاری جامعات کے مجموعی اخراجات تقریباً 34 ارب روپے جبکہ آمدن صرف 18 ارب روپے کے قریب ہے، جس سے تقریباً 15 ارب روپے کا خسارہ پیدا ہو چکا ہے۔ صرف جامعہ پشاور کا سالانہ خسارہ ڈیڑھ ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے باعث تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ نتیجتاً معیارِ تعلیم اور تدریسی ماحول مزید کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ والدین کے اعتماد میں کمی بھی ہے۔ ماضی میں یونیورسٹی کی ڈگری کو روشن مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا تھا، مگر آج ہزاروں نوجوان گریجویشن اور ماسٹرز کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 16 فیصد ہے، جبکہ 21 سے 29 سال کے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح تقریباً 30 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایسے حالات میں والدین کا یہ سوال بجا ہے کہ اگر برسوں کی تعلیم اور لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود روزگار یقینی نہیں تو اعلیٰ تعلیم کی افادیت کیا رہ جاتی ہے؟

دوسرا بڑا مسئلہ جامعات اور صنعت کے درمیان کمزور تعلق ہے۔ دنیا کی کامیاب جامعات اپنے نصاب کو صنعت اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مسلسل اپ ڈیٹ کرتی ہیں، جبکہ پاکستان کی بیشتر جامعات آج بھی روایتی نصاب پر انحصار کر رہی ہیں۔ نتیجتاً بائیوٹیکنالوجی، فارمیسی، زراعت، کیمسٹری اور کمپیوٹر سائنس جیسے شعبوں سے فارغ التحصیل ہزاروں نوجوان اپنی ہی فیلڈ میں ملازمت حاصل نہیں کر پاتے۔ انٹرن شپ، اپرنٹس شپ اور صنعتی شراکت داری اب بھی معمول کے بجائے استثنا ہیں۔

پالیسی سازی میں بھی توازن کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نے جامعات اور تحقیقی مقالوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ دی، مگر گریجویٹس کی ملازمت، صنعتی روابط، کاروباری مہارت اور اسٹارٹ اپ کلچر کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ آج بھی جامعات کی کامیابی زیادہ تر تحقیقی مقالوں اور عالمی درجہ بندی سے ناپی جاتی ہے، جبکہ فارغ التحصیل طلبہ کی ملازمت کی شرح کو بنیادی پیمانہ نہیں بنایا جاتا۔

ادھر ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، فری لانسنگ اور ای کامرس نے نوجوانوں کی ترجیحات بھی بدل دی ہیں۔ آج کا طالب علم ایسی تعلیم چاہتا ہے جو اسے عملی مہارت، عالمی معیار کی سرٹیفیکیشن اور فوری روزگار فراہم کرے، جبکہ کئی جامعات اب بھی روایتی امتحانی نظام اور نظریاتی تدریس تک محدود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر دورانیے کے مہارتی کورسز کئی نوجوانوں کو چار سالہ ڈگری سے زیادہ پُرکشش محسوس ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بحران صرف خالی نشستوں کا نہیں بلکہ اعتماد کے فقدان کا ہے۔ جب والدین کو یہ یقین نہ رہے کہ یونیورسٹی کی ڈگری ان کے بچوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے، تو داخلوں میں کمی ایک فطری نتیجہ بن جاتی ہے۔ تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلیج کو پُر کیے بغیر اس بحران سے نکلنا ممکن نہیں۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ جامعات اپنے فارغ التحصیل طلبہ کی ملازمت کی شرح باقاعدگی سے شائع کریں، ہر ڈگری پروگرام کو صنعت سے جوڑا جائے، انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے، مقامی صنعتوں کے ساتھ تحقیقی شراکت داری بڑھائی جائے، اور جامعات کی کارکردگی کا جائزہ صرف تحقیقی مقالوں کے بجائے روزگار، اختراع اور صنعتی روابط کی بنیاد پر لیا جائے۔

پاکستان کے پاس نوجوان آبادی کی صورت میں ایک قیمتی سرمایہ موجود ہے۔ اگر جامعات کو بدلتی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ کر دیا جائے تو یہی نوجوان ملک کی ترقی کا محرک بن سکتے ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ داخلے کیوں کم ہو رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہماری جامعات آج بھی وہ مستقبل فراہم کر رہی ہیں جس کی امید لے کر ایک طالب علم ان کے دروازے پر دستک دیتا ہے؟ اگر اس سوال کا عملی جواب تلاش کر لیا جائے تو خالی نشستیں بھی دوبارہ آباد ہوں گی اور نوجوانوں کا اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔