وادی تیراہ میدان کے علاقے ڈونگا شلوبر میں گزشتہ سال 16 مارچ 2025 کو گولہ گرنے کے واقعے سے متاثرہ خاندان نے حکومت سے اعلان کردہ مالی امداد فوری طور پر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وعدے پورے نہ کیے گئے تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔

یہ مطالبہ متاثرہ خاندان کے سربراہ جان ولی ولد مدک شلوبر پیرال خیل نے باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر تحریک متاثرین تیراہ میدان کے چیئرمین رحمت شاہ آفریدی، ترجمان صحبت آفریدی، منہاج لالا اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

جان ولی نے بتایا کہ 16 مارچ 2025 کو ان کے گھر پر نامعلوم سمت سے گولہ گرنے کے نتیجے میں ان کا ایک بیٹا جاں بحق جبکہ ان کی اہلیہ سمیت تین افراد شدید زخمی ہوئے، جو آج بھی معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زخمی بیٹے کے علاج پر اب تک تقریباً 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں، جس کے لیے انہیں اپنی ذاتی جائیداد فروخت کرنا پڑی۔ ان کے بقول حکومتی سطح پر زخمیوں کو صرف 50 ہزار روپے کی امداد دی گئی، جو علاج کے بھاری اخراجات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہے۔

جان ولی نے کہا کہ وہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور گھر کے تین افراد کے معذور ہونے کے باعث علاج اور روزمرہ اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا۔ انہوں نے حکومت سے فوری مالی امداد کی فراہمی کی اپیل کی۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک متاثرین تیراہ میدان کے ترجمان صحبت آفریدی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، کور کمانڈر پشاور، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ زخمیوں کے لیے اعلان کردہ 25 لاکھ روپے جبکہ جاں بحق ہونے والے کے ورثا کے لیے ایک کروڑ روپے پر مشتمل امدادی پیکیج بلا تاخیر جاری کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں سے کیے گئے وعدوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے، بصورت دیگر تیراہ کے متاثرین اپنے حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔