پشاور: خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیرِ اہتمام پشاور کے ایک نجی کانفرنس ہال میں سابقہ فاٹا و پاٹا پر وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکسوں کے نفاذ کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں مختلف کاروباری طبقوں، ضلعی چیمبرز آف کامرس، تاجر تنظیموں، کنٹریکٹرز ایسوسی ایشنز، صنعتکاروں، سابق پارلیمنٹیرینز، سول سوسائٹی اور سابقہ قبائلی اضلاع کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
کانفرنس میں خیبر کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن، آل ٹرائیبل کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن، مرجڈ اضلاع کے مختلف چیمبرز آف کامرس، تاجر تنظیموں اور دیگر نمائندہ اداروں نے وفاقی حکومت کی جانب سے سابقہ قبائلی اضلاع پر ٹیکسوں کے نفاذ کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ سابقہ فاٹا و پاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت ریاستِ پاکستان نے ان علاقوں کی معاشی بحالی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو، تعلیم، صحت، روزگار، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج اور ٹیکس استثنیٰ برقرار رکھنے کے وعدے کیے تھے، تاہم ان وعدوں پر تاحال مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
شرکاء کا کہنا تھا کہ سابقہ قبائلی اضلاع کی معیشت ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی، جبکہ صنعت و تجارت شدید مشکلات کا شکار ہے، سرمایہ کاری میں مسلسل کمی، بے روزگاری میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں میں جمود پایا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں نئے ٹیکسوں کا نفاذ مقامی معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب کرے گا۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ سابقہ قبائلی اضلاع ایک مرتبہ پھر دہشت گردی کی نئی لہر اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال سے متاثر ہیں۔ نقل و حرکت میں رکاوٹیں اور کاروباری مشکلات پہلے ہی عوام اور تاجروں کے لیے سنگین چیلنج بن چکی ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں ٹیکسوں کا نفاذ انضمام کے وقت کیے گئے آئینی، معاشی اور ترقیاتی وعدوں، سرتاج عزیز اصلاحاتی کمیٹی کی سفارشات اور ریاستی یقین دہانیوں کے بھی منافی ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ انضمام کے وقت سابقہ فاٹا و پاٹا سے کیے گئے تمام وعدوں پر فوری اور مکمل عمل درآمد کیا جائے، قبائلی اضلاع کو دوبارہ ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، خصوصی مراعات مناسب مدت تک برقرار رکھی جائیں، سابقہ قبائلی اضلاع کے لیے دس سالہ 100 ارب روپے سالانہ خصوصی ترقیاتی پیکیج پر مکمل عمل درآمد کیا جائے، جبکہ امن و امان کی بحالی، سرمایہ کاری، صنعت اور تجارت کے فروغ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ علاقے حقیقی معنوں میں قومی ترقی کے دھارے میں شامل ہو سکیں۔
کانفرنس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر وفاقی حکومت نے قبائلی اضلاع کے عوام، تاجروں اور کاروباری برادری کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرتے ہوئے اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر بھرپور جدوجہد جاری رکھیں گے۔
