باڑہ: قبیلہ ملک دین خیل کے عمائدین نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) باڑہ کی اندرونی سیاسی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اختلافات برقرار رہے تو نو منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے قیادت سے اپیل کی کہ تمام معاملات افہام و تفہیم سے حل کیے جائیں تاکہ علاقے کی ترقی کا عمل متاثر نہ ہو۔
باڑہ پریس کلب میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی فضل غنی، لعل مست، حاجی گل ولی، جانس خان اور دیگر مشران نے کہا کہ وہ ایم این اے اقبال آفریدی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور، مشیر اطلاعات سہیل آفریدی، نوید آفریدی، ایم پی اے مینا خان آفریدی اور ایم پی اے عبدالغنی آفریدی کے شکر گزار ہیں، جن کی کاوشوں سے قبیلہ ملک دین خیل کے لیے 24 نئے میگا ترقیاتی منصوبوں کی منظوری ممکن ہوئی۔
مشران کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کی منظوری کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کے باعث سوشل میڈیا پر مختلف بیانات سامنے آ رہے ہیں، جس سے عوام میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور اجتماعی مفادات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ذاتی اور گروہی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر علاقے کے وسیع تر مفاد کو ترجیح دی جائے، تاکہ منظور شدہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو سکیں اور عوام ان کے ثمرات سے مستفید ہوں۔
مشران نے کہا کہ باڑہ اور بالخصوص ملک دین خیل کا علاقہ کئی دہائیوں تک بدامنی سے متاثر رہا، جس کے باعث مقامی انفراسٹرکچر کا تقریباً 60 فیصد حصہ تباہ ہو گیا۔ ان کے بقول موجودہ ترقیاتی منصوبے علاقے کی بحالی اور عوام کی فلاح کے لیے نہایت اہم ہیں، اس لیے انہیں سیاسی اختلافات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے متعلقہ سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ باہمی اختلافات مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیے جائیں تاکہ ترقیاتی عمل بلا تعطل جاری رہے اور پسماندہ علاقوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔
