باڑہ: باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر اور سرکاری ٹھیکیدار ہاشم آفریدی نے محکمہ ایریگیشن خیبر پر 73 کروڑ روپے مالیت کی ترقیاتی اسکیموں کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہاشم آفریدی نے دعویٰ کیا کہ محکمہ ایریگیشن کی ترقیاتی اسکیمیں مبینہ طور پر من پسند ٹھیکیداروں میں تقسیم کی گئیں۔ ان کے مطابق پارلیمنٹیرینز کے نام پر 4 کروڑ 80 لاکھ روپے وصول کیے گئے، جبکہ ان کے نام پر مخصوص افراد کو 25 فیصد اسکیمیں بھی دی گئیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ ایریگیشن خیبر کی 19 ترقیاتی اسکیموں کے ٹینڈرز کے لیے 52 ٹھیکیداروں نے دستاویزات جمع کرائیں، تاہم کم ریٹ دینے والے اور بڑے لائسنس ہولڈر ٹھیکیداروں کو نظر انداز کرتے ہوئے زیادہ ریٹ دینے والے ٹھیکیداروں کو منصوبے الاٹ کیے گئے، جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔

ایک سوال کے جواب میں ہاشم آفریدی نے کہا کہ بدعنوانی کے معاملات تحریری شکل میں نہیں ہوتے، تاہم اگر متعلقہ ایکسین یہ ثابت کر دیں کہ پارلیمنٹیرینز اور ٹھیکیداروں کے نام پر کوئی رقم وصول نہیں کی گئی اور اسکیموں کی تقسیم میں کسی قسم کی مالی لین دین نہیں ہوئی، تو وہ ہر قسم کی قانونی کارروائی یا سزا قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ محکمہ ایریگیشن میں بعض اہلکار گزشتہ 15 برس سے ایک ہی جگہ تعینات ہیں۔ ان کے بقول اگر ان کے تبادلے بھی کیے جاتے ہیں تو وہ عملی طور پر اسی دفتر میں فرائض انجام دیتے ہیں، جبکہ سرکاری ریکارڈ میں کسی اور مقام پر تعیناتی ظاہر کر کے تنخواہیں وصول کی جاتی ہیں۔

ہاشم آفریدی نے حکومتِ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کارروائی نہ کی گئی تو وہ پشاور اور اسلام آباد میں بھی پریس کانفرنسیں کریں گے، جبکہ محکمہ ایریگیشن کے دفتر کے سامنے احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کریں گے۔

پریس کانفرنس کے موقع پر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جن میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا اسد اللہ آفریدی، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی شیرین اور صدیق چراغ، پاکستان پیپلز پارٹی کے ڈاکٹر شیر شاہ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حاجی ظاہر اور اصغر جان، پاکستان عوامی انقلابی لیگ کے مرکزی صدر عطاء اللہ آفریدی، جماعت اسلامی پاکستان کے واجد آفریدی اور خیبر یونین پاکستان کے مراد ساقی آفریدی سمیت دیگر رہنما شامل تھے۔