وادی تیراہ کے متاثرین کی باعزت واپسی اور آبادکاری کے حوالے سے اعلیٰ عسکری و سول حکام اور 24 رکنی نمائندہ کمیٹی کے درمیان اہم جرگہ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا، جس میں 10 اکتوبر سے متاثرین کی مرحلہ وار واپسی کا عمل شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق جرگے میں حکومتی نمائندوں نے یقین دہانی کرائی کہ واپسی کے عمل کے آغاز سے قبل علاقے میں امن و امان کی صورتحال کو مکمل طور پر بہتر بنایا جائے گا، جبکہ 24 رکنی کمیٹی کی جانب سے پیش کیے گئے 37 نکاتی مطالبات پر من و عن عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

جرگے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ وادی تیراہ میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر بلا تعطل کام جاری رکھا جائے گا، جبکہ کمیٹی کی جانب سے اٹھائے گئے تمام تحفظات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا تاکہ متاثرین کی واپسی کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

اس موقع پر 24 رکنی کمیٹی نے الحاج مارکیٹ میں قائم نادرا مرکز پر جی آر سی فہرست میں شامل متاثرین سے دوبارہ وادی تیراہ کا پتہ طلب کرنے اور نئے سرے سے ایڈریس کے جواز کی شرط عائد کرنے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے مؤقف کے بعد متعلقہ حکام نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مسئلہ حل کر دیا، جس سے تصدیق شدہ متاثرین کو درپیش مشکلات دور ہو گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگے کے دوران اعلیٰ عسکری حکام نے بتایا کہ اگر خواجل خیل، درہ چونی، حیدر کنڈاو اور لوزکہ درہ کے مکین بروقت اپنے علاقوں سے نقل مکانی مکمل کر لیتے ہیں تو متاثرینِ وادی تیراہ کی واپسی کا عمل مقررہ 10 اکتوبر سے بھی پہلے شروع کیے جانے کے امکانات موجود ہیں۔