انجمن تاجران باڑہ کے صدر سید ایاز وزیر نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیبر سمیت تمام قبائلی اضلاع کے عوام کو مزید 10 سال کے لیے ہر قسم کے ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، کیونکہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران بدامنی، دہشت گردی، نقل مکانی اور معاشی بحران نے قبائلی علاقوں کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

باڑہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید ایاز وزیر نے کہا کہ قبائلی عوام اس وقت ٹیکس ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ان کے بقول، مسلسل بدامنی اور معاشی مشکلات کے باعث قبائلی علاقوں کے کاروبار، معیشت، مکانات اور روزگار کے ذرائع تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد خاندان اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی فراہم کرنے سے بھی قاصر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں قبائلی عوام پر مزید ٹیکس عائد کرنا ان کے مسائل میں اضافہ کرے گا، اس لیے وفاقی حکومت زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے قبائلی اضلاع کو مزید دس سال کے لیے ٹیکس سے استثنا دے تاکہ متاثرہ عوام اپنی معیشت اور کاروبار دوبارہ بحال کر سکیں۔

پریس کانفرنس میں انجمن تاجران باڑہ کے نائب صدر عظیم خان، سینئر نائب صدر حاجی استکار، سابق صدر مقبلی خان، معراج خان، اخونزادہ اجمعین، صابر خان، خیال محمد، اول باز، حاجی فقیر محمد اور تیراہ تاجر یونین کے صدر شیر افگن سمیت دیگر تاجران بھی موجود تھے۔

سید ایاز وزیر نے وزیراعظم پاکستان اور صدرِ مملکت سے مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع کے عوام کی معاشی بحالی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور انہیں مزید دس سال تک ہر قسم کے وفاقی ٹیکس سے استثنا دیا جائے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے تاجروں اور قبائلی عوام کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو پورے قبائلی اضلاع میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔