میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب کے شہر سرگودھا میں پیش آنے والا سات، آٹھ سالہ منتہا زہرہ کا المناک قتل پورے ملک کو سوگوار کر گیا۔ اطلاعات کے مطابق بچی محلے کی دکان سے سامان لینے گئی لیکن واپس نہ لوٹی۔ کچھ دیر بعد پریشان والدین اس کی تلاش میں دکان پہنچے تو بالائی منزل پر موجود کباڑ سے اس کی لاش برآمد ہوئی، جبکہ ایک مشتبہ شخص موقع سے فرار ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق قتل سے قبل معصوم بچی کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی کوشش کی گئی، تاہم واقعے کی حتمی نوعیت پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔ پولیس کے مطابق گرفتار ہونے والا مرکزی ملزم بعد ازاں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
یہ دلخراش واقعہ محض ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد، اغوا، جنسی استحصال اور قتل جیسے سنگین جرائم میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو والدین، ریاستی اداروں اور معاشرے کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
چائلڈ رائٹس کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران بچوں کے خلاف تشدد کی صورتحال بدستور سنگین رہی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں روزانہ اوسطاً 11 سے 12 بچے کسی نہ کسی شکل میں تشدد، اغوا یا جنسی استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔
سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کے دوران پاکستان بھر میں بچوں سے جنسی زیادتی کے 2,954 مقدمات تھانوں میں درج ہوئے یا میڈیا پر رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیم ساحل کے مطابق سال 2024 میں بچوں کے خلاف جرائم کے 3,364 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2025 میں ان واقعات میں تقریباً 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور مجموعی تعداد 3,630 تک پہنچ گئی۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق اغوا، جنسی استحصال یا تشدد کا شکار ہونے والے زیادہ تر بچوں کی عمریں 6 سے 15 سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث 70 فیصد سے زائد افراد اجنبی نہیں بلکہ پڑوسی، محلے کے دکاندار، جاننے والے یا دور کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ دیہی علاقوں کے مقابلے میں تقریباً 53 فیصد سے زیادہ واقعات گنجان آباد شہری علاقوں میں رپورٹ ہوتے ہیں، جہاں بچے اکثر اکیلے قریبی دکانوں یا بازاروں کا رخ کرتے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں اس نوعیت کے جرائم کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔
اگرچہ آئینِ پاکستان ہر شہری، خصوصاً بچوں، کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، لیکن والدین کی ذمہ داری بھی کسی طور کم نہیں ہوتی۔ بچوں کی تعلیم، صحت اور تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی روزمرہ سرگرمیوں، دوستوں اور معمولات پر بھی نظر رکھنا ضروری ہے۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ مضبوط اعتماد کا رشتہ قائم کریں، ان کے دوست اور رازدار بنیں تاکہ بچے بلا جھجک ہر اچھی یا بری بات اپنے والدین سے شیئر کر سکیں۔ اکثر ایسے واقعات میں بروقت آگاہی کسی بڑے سانحے کو روک سکتی ہے۔
کم عمر بچوں کو اکیلے محلے کی دکان یا بازار بھیجنے سے گریز کریں۔ اسکول آنے جانے کے دوران اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ بچے گاڑی یا رکشے میں ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر نہ بیٹھیں۔ سیر و تفریح، خریداری یا دیگر مصروفیات میں جہاں ممکن ہو بچوں کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ ان کے دوستوں، میل جول اور آن لائن سرگرمیوں سے بھی باخبر رہیں، جبکہ سوشل میڈیا کے استعمال پر مناسب نگرانی یقینی بنائیں۔
بچوں کو "گڈ ٹچ" اور "بیڈ ٹچ" جیسے بنیادی حفاظتی تصورات ان کی عمر کے مطابق ضرور سمجھائیں اور انہیں یہ اعتماد دیں کہ اگر کوئی شخص انہیں خوفزدہ کرے، ہراساں کرے یا نامناسب رویہ اختیار کرے تو وہ فوراً اپنے والدین یا کسی قابلِ اعتماد بڑے کو آگاہ کریں۔ بچوں کو یہ احساس بھی دلائیں کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع دینے پر انہیں ڈانٹا نہیں جائے گا بلکہ ان کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری صرف حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، میڈیا اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ جب تک ہم اجتماعی طور پر بچوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح نہیں بنائیں گے، اس وقت تک ایسے المناک واقعات کا مکمل سدباب ممکن نہیں ہوگا۔
ہر والدین کو یہ حقیقت ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ان کے بچوں کا سب سے مضبوط محافظ وہ خود ہیں۔ معمولی سی احتیاط، مسلسل نگرانی اور بچوں کے ساتھ اعتماد پر مبنی تعلق نہ صرف انہیں انسان نما درندوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے بلکہ انہیں ایک محفوظ، پراعتماد اور ذمہ دار شہری بننے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
