پشتو زبان کے معروف نوجوان گلوکار جاوید امیرخیل نے پشاور اور خیبر پختونخوا کو خیرباد کہتے ہوئے مستقل طور پر جرمنی منتقل ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔

جاوید امیرخیل نے گزشتہ شب اپنی فیس بک پوسٹ میں ہجرت کے فیصلے سے آگاہ کیا، جس کے بعد مداحوں، دوستوں اور فنکار برادری کی جانب سے افسوس اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

اپنے جذباتی پیغام میں جاوید امیرخیل نے لکھا کہ وہ ہمیشہ اپنے وطن، اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنی ثقافت کے درمیان رہ کر فن کی خدمت کرنا چاہتے تھے، تاہم حالات نے انہیں ایسا فیصلہ کرنے پر مجبور کر دیا جو ان کی خواہش کے برخلاف تھا۔

انہوں نے بتایا کہ 15 اگست 2021 کو کابل سے ان کی ہجرت کا سفر شروع ہوا۔ پہلے اسلام آباد اور پھر کوئٹہ منتقل ہوئے، جہاں ابتدائی مہینے انتہائی مشکل حالات میں گزارے۔ بعد ازاں وہ پشاور آ گئے، جہاں تقریباً چار برس قیام کے دوران انہیں بے پناہ محبت، احترام اور حوصلہ افزائی ملی۔

جاوید امیرخیل نے کوئٹہ اور پشاور کے عوام، دوستوں، مداحوں اور فن کی قدر کرنے والوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہی لوگوں کی محبت نے پردیس کی مشکلات کو آسان بنایا اور انہیں اپنے فنی سفر کو جاری رکھنے کا حوصلہ دیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 14 مئی 2026 کو ایک کنسرٹ کے سلسلے میں یورپ آئے تھے، تاہم بعض ناگزیر حالات کے باعث انہیں جرمنی میں مستقل رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

اپنی پوسٹ میں جاوید امیرخیل نے کہا کہ اگرچہ وہ اپنے وطن، لوگوں اور مانوس گلیوں سے دور جا رہے ہیں، لیکن ان کا دل ہمیشہ اپنی زبان، ثقافت اور سرزمین کے ساتھ جڑا رہے گا۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جرمنی میں بھی پشتو موسیقی اور ثقافت کی ترویج اور خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ یہ تحریر لکھتے وقت ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر یہ کمزوری کے نہیں بلکہ محبت، جدائی اور ان قیمتی یادوں کے آنسو تھے جو ان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر جاوید امیرخیل نے کابل اور پشاور کو الوداع کہتے ہوئے تمام دوستوں، رشتہ داروں اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا اور ان سے دعاؤں کی درخواست کی۔