جمرود: تحریک حقوق متاثرین جبہ ڈیم نے خیبر پختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جبہ ڈیم سے متاثرہ خاندانوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا فوری اعلان کیا جائے، انہیں منصوبے سے حاصل ہونے والی رائلٹی، ترقیاتی فنڈز اور دیگر معاشی فوائد میں باقاعدہ حصہ دیا جائے، جبکہ روزگار کے مواقع میں مقامی متاثرین کو ترجیح دی جائے۔
جمرود پریس کلب میں منعقدہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کے سرکردہ رہنما عرفان آفریدی نے کہا کہ جبہ ڈیم منصوبہ قومی ترقی، پانی کی فراہمی، زراعت اور سیاحت کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، تاہم اس منصوبے کے باعث مقامی آبادی کی زمینیں، مکانات، باغات اور دیگر املاک متاثر ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین نے قومی مفاد میں قربانیاں دی ہیں، اس لیے انصاف، مساوات اور بحالی کے اصولوں کے تحت انہیں بھی منصوبے کے ثمرات میں شریک کیا جانا چاہیے۔
تحریک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکلز 9، 14، 24، 25 اور 38 ریاست کو شہریوں کے جان و مال، عزت، مساوات اور سماجی تحفظ کو یقینی بنانے کا پابند بناتے ہیں۔ اسی تناظر میں ترقیاتی منصوبوں سے متاثر ہونے والے افراد کو مستقل معاشی اور ترقیاتی فوائد کی فراہمی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے۔
متاثرین نے مطالبہ کیا کہ جبہ ڈیم سے حاصل ہونے والی رائلٹی، ترقیاتی فنڈز اور دیگر معاشی فوائد میں ان کا باقاعدہ حصہ مقرر کیا جائے۔ انہوں نے سیاحت، سیکیورٹی، کشتی رانی، ماہی گیری، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں مقامی متاثرین کے لیے ترجیحی کوٹہ مختص کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ متاثرین کو رہائشی پلاٹس فراہم کیے جائیں اور سڑکوں، پینے کے صاف پانی، بجلی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس کے علاوہ مقامی نوجوانوں کے لیے خصوصی فنی و پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں اور ماہی گیری، کشتی رانی اور سیاحتی لائسنسوں کے اجرا میں بھی متاثرین کو ترجیح دی جائے۔
تحریک حقوق متاثرین جبہ ڈیم نے مزید مطالبہ کیا کہ متاثرین کی نمائندگی پر مشتمل ایک مستقل "جبہ ڈیم متاثرین فلاحی کمیٹی" قائم کی جائے اور ڈیم کے اطراف ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں میں مقامی آبادی کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے حکومت سے متاثرین کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ بھی کیا تاکہ ایک جامع ترقیاتی معاہدہ طے پا سکے اور مستقبل میں کسی بھی ممکنہ تنازع سے بچا جا سکے۔
تحریک نے حکومت سے منصوبے کے حوالے سے مکمل شفافیت اختیار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتایا جائے کہ جبہ ڈیم کے لیے مجموعی طور پر کتنی زمین درکار ہے، اب تک کتنی زمین حاصل کی جا چکی ہے، زمین کے معاوضوں کی مد میں کتنی رقم ادا کی گئی ہے اور مکانات، باغات، تعمیرات اور دیگر املاک کے معاوضوں کی مد میں کتنی ادائیگیاں کی جا چکی ہیں۔
تحریک حقوق متاثرین جبہ ڈیم نے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا حکومت اور متعلقہ ادارے متاثرین کی قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں گے اور ان کے آئینی، قانونی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر عملی اقدامات کریں گے۔
