خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے 2026ء کی جامعاتی درجہ بندی (یونیورسٹی رینکنگ) جاری ہونے کے بعد صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے معیار، سمت اور مستقبل پر ایک نئی بحث نے جنم لیا ہے۔ یہ رینکنگ محض جامعات کی درجہ بندی نہیں بلکہ صوبے کے تعلیمی نظام کی مجموعی کیفیت اور کارکردگی کا بھی ایک اہم اشاریہ سمجھی جا سکتی ہے۔

فہرست کے مطابق آئی ایم سائنسز  پشاور نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ ہزارہ یونیورسٹی، پاک آسٹریا یونیورسٹی ہری پور، یونیورسٹی آف ملاکنڈ، غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی  پشاور نے بھی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دوسری جانب صوبے کی دو تاریخی اور ممتاز جامعات، یونیورسٹی آف پشاور اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی، کی نسبتاً نچلی پوزیشنوں نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔

اس رینکنگ سے ایک بنیادی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دنیا بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی اعلیٰ تعلیم کا منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ وہ ادارے جو تحقیق، مؤثر گورننس، صنعتوں سے روابط، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نصاب پر توجہ دے رہے ہیں، بہتر نتائج حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس وہ جامعات جو اب بھی روایتی انتظامی اور تدریسی ماڈلز پر انحصار کر رہی ہیں، انہیں بڑھتے ہوئے مسابقتی ماحول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

خصوصی توجہ یونیورسٹی آف پشاور کی کارکردگی پر جاتی ہے، جو کئی دہائیوں تک نہ صرف خیبر پختونخوا بلکہ پورے ملک میں علمی قیادت کی علامت سمجھی جاتی رہی ہے۔ اس جامعہ نے سیاست، ادب، سائنس، صحافت، قانون اور سماجی علوم سمیت مختلف شعبوں میں بے شمار نامور شخصیات پیدا کیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ ادارہ مالی مشکلات، انتظامی تنازعات، تحقیق میں سست روی، جدید شعبہ جات میں محدود توسیع اور بین الاقوامی روابط کی کمزوری جیسے مسائل سے دوچار رہا ہے۔

آج دنیا بھر میں جامعات کا معیار تحقیق، جدت، بین الاقوامی اشتراک اور علمی اثرات کی بنیاد پر جانچا جاتا ہے، جبکہ ہمارے کئی روایتی ادارے اب بھی تدریس کے روایتی دائرے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے۔ اگر یونیورسٹی آف پشاور اپنی سابقہ علمی حیثیت بحال کرنا چاہتی ہے تو اسے تحقیق کے لیے زیادہ وسائل مختص کرنا ہوں گے، عالمی جامعات کے ساتھ شراکت داریوں کو فروغ دینا ہوگا، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس، بایوٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی جیسے جدید شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جبکہ فیکلٹی کی پیشہ ورانہ ترقی کو بھی ترجیح بنانا ہوگا۔

اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی صورتحال بھی کسی حد تک اسی نوعیت کی ہے۔ تاریخی اعتبار سے یہ ادارہ برصغیر کی مسلم تعلیمی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اور اس کی علمی روایات آج بھی باعثِ فخر ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں صرف تاریخی ورثہ کسی ادارے کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتا۔ اسلامیہ کالج یونیورسٹی کو تحقیق کے میدان میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنانا ہوگی، بین الاقوامی طلبہ اور اساتذہ کو متوجہ کرنے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور ایسے تعلیمی پروگرامز کو فروغ دینا ہوگا جو جدید معیشت اور روزگار کی ضروریات سے براہِ راست جڑے ہوں۔

رینکنگ میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی جامعات کی کامیابی سے بھی بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ آئی ایم سائنسز کی مسلسل ترقی اس بات کا ثبوت ہے کہ واضح وژن، مؤثر انتظامی ڈھانچہ اور مارکیٹ سے منسلک نصاب کسی بھی ادارے کو مختصر عرصے میں نمایاں مقام دلا سکتا ہے۔ اسی طرح غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ  اور پاک آسٹریا یونیورسٹی ہری پور نے ثابت کیا ہے کہ اگر تعلیمی معیار، تحقیق اور ٹیکنالوجی کو ترجیح دی جائے تو نسبتاً نئے ادارے بھی روایتی جامعات کے برابر یا ان سے آگے نکل سکتے ہیں۔ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کی بہتر پوزیشن اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ مخصوص شعبوں پر توجہ دینے والی جامعات اپنی مہارت کی بنیاد پر اعلیٰ کارکردگی دکھا سکتی ہیں۔

رینکنگ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ صوبے کی متعدد نئی اور نسبتاً چھوٹی جامعات اب بھی بنیادی مسائل سے دوچار ہیں۔ یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف لکی مروت، فاٹا یونیورسٹی، یونیورسٹی آف شانگلہ اور دیگر کئی ادارے محدود وسائل، فیکلٹی کی کمی، ناکافی تحقیقی سہولیات اور کمزور انفراسٹرکچر کے باعث اپنی مکمل صلاحیتوں کا اظہار نہیں کر پا رہے۔

ان جامعات کو محض انتظامی ہدایات نہیں بلکہ خصوصی مالی اور علمی معاونت کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت واقعی پسماندہ اضلاع میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے ان اداروں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکجز، مشترکہ تحقیقی منصوبے، ڈیجیٹل سہولیات اور تجربہ کار اساتذہ کی دستیابی جیسے اقدامات پر توجہ دینا ہوگی۔

نجی جامعات کی کارکردگی بھی قابلِ غور ہے۔ سی کاز ، قُرطبہ یونیورسٹی، سرحد یونیورسٹی اور اقرا نیشنل یونیورسٹی جیسے اداروں نے نسبتاً بہتر نتائج حاصل کیے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انتظامی لچک اور تیز رفتار فیصلہ سازی انہیں فائدہ پہنچا رہی ہے۔ تاہم نجی شعبے کو بھی صرف تدریسی سرگرمیوں تک محدود رہنے کے بجائے تحقیق، اختراع اور بین الاقوامی معیار کی علمی اشاعتوں پر زیادہ توجہ دینی ہوگی تاکہ وہ علمی ترقی میں مزید مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

اس رینکنگ کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ تیزی سے بدل رہا ہے اور صرف ماضی کی شہرت مستقبل کی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی۔ وہ ادارے جو تحقیق، اختراع، ٹیکنالوجی، بین الاقوامی روابط اور مؤثر گورننس کو اپنی ترجیحات بنائیں گے، وہی آنے والے برسوں میں نمایاں مقام حاصل کر سکیں گے۔

یونیورسٹی آف پشاور اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے لیے یہ رینکنگ ایک تنبیہ بھی ہے اور ایک موقع بھی۔ اگر یہ ادارے اپنی کمزوریوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے ہوئے اصلاحات کے عمل کا آغاز کریں تو ان کے پاس وسائل، روایت، انسانی سرمایہ اور علمی تجربہ موجود ہے جس کی بنیاد پر وہ دوبارہ صوبے کی صفِ اول کی جامعات میں شامل ہو سکتے ہیں۔

بالآخر کسی بھی رینکنگ کا مقصد محض مقابلہ آرائی پیدا کرنا نہیں بلکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ یہی وہ مقصد ہے جسے سامنے رکھتے ہوئے حکومت، جامعات، اساتذہ اور طلبہ کو مشترکہ طور پر آگے بڑھنا ہوگا تاکہ خیبر پختونخوا میں اعلیٰ تعلیم کا نظام مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے۔