اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں ایک طالب علم کی مبینہ خودکشی کا حالیہ واقعہ نہ صرف تعلیمی حلقوں بلکہ والدین، طلبہ اور معاشرے کے مختلف طبقات کے لیے شدید تشویش کا باعث بنا ہے۔ کسی بھی تعلیمی ادارے میں نوجوان طالب علم کی جان کا ضیاع ایک المناک سانحہ ہوتا ہے، لیکن جب اسی نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہو چکے ہوں تو صورتحال مزید سنجیدہ ہو جاتی ہے۔
ایسے واقعات کو محض انفرادی مسئلہ قرار دے کر نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے اسباب، تعلیمی ماحول، انتظامی رویوں اور طلبہ کی ذہنی کیفیت کا جامع جائزہ لینا ضروری ہے۔
اس واقعے کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ بھی اٹھ رہا ہے کہ متوفی طالب علم سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا، جبکہ گرمیوں کی تعطیلات شروع ہو چکی تھیں اور امتحانات، بشمول عملی امتحانات، مکمل ہو چکے تھے۔ ایسی صورتِ حال میں یہ جاننا ضروری ہے کہ تعطیلات کے دوران طلبہ کی ایک تعداد ہاسٹل میں کیوں مقیم تھی اور اس حوالے سے یونیورسٹی کی پالیسی کیا تھی۔
اگر طلبہ کو ہاسٹل میں قیام کی اجازت دی گئی تھی تو ان کی فلاح و بہبود، ذہنی صحت اور روزمرہ مسائل کی نگرانی کے لیے کون سے مؤثر انتظامات موجود تھے؟ یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کیونکہ رہائشی تعلیمی اداروں میں انتظامیہ کی ذمہ داری صرف رہائش فراہم کرنے تک محدود نہیں ہوتی بلکہ طلبہ کی مجموعی بہبود کو یقینی بنانا بھی اس کا حصہ ہے۔
واقعے کے بعد بعض طلبہ نے میڈیا سے گفتگو میں ہاسٹل انتظامیہ، خصوصاً پرووسٹ کے رویے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بعض اوقات نظم و ضبط کے نام پر نافذ کیے جانے والے قواعد ذہنی دباؤ کا باعث بن جاتے ہیں۔ اگرچہ نظم و ضبط کسی بھی تعلیمی ادارے کے لیے ناگزیر ہے، تاہم اس کے نفاذ میں توازن، برداشت اور طلبہ کی نفسیاتی ضروریات کا خیال رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
کچھ طلبہ کا مؤقف ہے کہ ہاسٹل میں نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں، شام کے اوقات میں دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور تفریحی سرگرمیوں کے مواقع محدود ہیں۔ ان کے مطابق ذہنی آسودگی یا تفریح کے لیے ہاسٹل سے باہر جانے کی صورت میں بھی مختلف انتظامی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
اسی طرح بعض طلبہ نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ فیسوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں امتحانات میں شرکت سے محرومی کی تنبیہات دی جاتی ہیں، جبکہ انتظامیہ کے خلاف شکایات درج کرانے یا اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر بھی دباؤ محسوس کیا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ تمام دعوے تحقیقات اور تصدیق کے متقاضی ہیں، تاہم اگر طلبہ کی ایک بڑی تعداد یکساں نوعیت کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے تو انہیں سنجیدگی سے لینا ضروری ہے۔ ایک جدید تعلیمی ادارہ صرف تعلیم فراہم کرنے کا مرکز نہیں ہوتا بلکہ طلبہ کی ذہنی، جذباتی اور سماجی نشوونما کی بھی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ دنیا بھر کی جامعات میں ذہنی صحت، کونسلنگ سروسز، مؤثر شکایتی نظام اور دوستانہ انتظامی ماحول کو تعلیمی معیار کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔
اس افسوسناک واقعے کے تناظر میں ضروری ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ، والدین، طلبہ، پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے مل کر شفاف، غیر جانبدار اور جامع تحقیقات کو یقینی بنائیں۔ تحقیقات کا مقصد صرف واقعے کی وجوہات جاننا نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا طلبہ کی ذہنی صحت، رہائشی سہولیات، شکایتی نظام یا انتظامی رویوں میں ایسی کمزوریاں موجود ہیں جو مستقبل میں مزید مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔
کسی نوجوان طالب علم کی جان کا ضیاع محض ایک عدد یا خبر نہیں بلکہ ایک خاندان کے خوابوں، امیدوں اور مستقبل کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں پیش آنے والے اس سانحے کو ایک الگ تھلگ واقعہ سمجھنے کے بجائے ایک سنجیدہ تنبیہ کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ اگر اس موقع پر دیانت داری، شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ حقائق کا جائزہ لیا جائے اور ضروری اصلاحات متعارف کرائی جائیں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں کسی اور خاندان کو ایسے المناک سانحے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
