خیبر پختونخوا حکومت نے 19 جون 2026 کو مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا، تاہم بجٹ کے تفصیلی جائزے سے یہ اہم سوال جنم لیتا ہے کہ آیا صوبے کے بچوں کو درپیش سنگین مسائل حکومتی ترجیحات میں واقعی شامل ہیں یا نہیں۔

صوبے میں اس وقت تقریباً 45 سے 50 لاکھ بچے سکول جانے کی عمر کے باوجود تعلیمی اداروں سے باہر ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 25-اے اور اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے بلکہ صوبے کے مستقبل کے انسانی وسائل کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔ آئین کے تحت 5 سے 16 سال کی عمر تک ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں مفت اور لازمی تعلیم کا قانون 2017 سے نافذ العمل ہے۔ اس کے باوجود لاکھوں بچے آج بھی تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہیں۔

تعلیم سے محرومی کے ساتھ ساتھ صوبے میں 7 لاکھ سے زائد بچے چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔ اگرچہ چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے قانون سازی اور پالیسی سازی کی جا چکی ہے، لیکن ان قوانین پر مؤثر عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ غربت، تعلیمی سہولیات کی کمی اور نگرانی کے کمزور نظام کے باعث ہزاروں بچے سکولوں کے بجائے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

دوسری جانب صوبے کے بڑے شہروں میں ہزاروں بچے سڑکوں پر زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ بچے تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور انہیں جسمانی، ذہنی اور جنسی تشدد سمیت مختلف اقسام کے استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سٹریٹ چلڈرن کا مسئلہ اب محض ایک سماجی چیلنج نہیں بلکہ انسانی حقوق کے ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس کے حل کے لیے جامع اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔

بچوں کے تحفظ کے حوالے سے خیبر پختونخوا کو ملک میں ایک منفرد حیثیت حاصل ہے۔ 2010 میں صوبے میں پاکستان کا پہلا جامع چائلڈ پروٹیکشن قانون نافذ کیا گیا، جس کے تحت 2011 میں چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن قائم کیا گیا۔ یہ ادارہ محدود وسائل کے باوجود بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح کے لیے سرگرم عمل ہے۔ تاہم قانون سازی کے پندرہ برس سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود صوبے بھر میں صرف 12 ضلعی چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کیے جا سکے ہیں۔ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں مزید صرف پانچ اضلاع میں نئے یونٹس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جو صوبے کی ضروریات اور بچوں کو درپیش خطرات کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتی ہے۔

بجٹ کے اعداد و شمار بھی حکومتی ترجیحات کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ تقریباً 45 لاکھ سکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں شامل کرنے کے لیے صرف 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ ایلیمنٹری اور ہائر ایجوکیشن کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 19 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے برعکس سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے 52 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بلاشبہ انفراسٹرکچر کی ترقی معاشی نمو کے لیے ضروری ہے، تاہم پالیسی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی ترقی، خصوصاً بچوں کی تعلیم، تحفظ اور فلاح میں سرمایہ کاری ہی پائیدار ترقی کی اصل بنیاد ہوتی ہے۔ اگر لاکھوں بچے سکولوں سے باہر رہیں، لاکھوں چائلڈ لیبر کا شکار ہوں اور ہزاروں بچے سڑکوں پر غیر محفوظ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، تو صرف سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر صوبے کے سماجی مسائل کا حل نہیں بن سکتی۔

مالی سال 2026-27 کا بجٹ حکومت کے لیے ایک اہم موقع تھا کہ وہ بچوں کے حقوق، تعلیم، تحفظ اور فلاح کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرتی۔ تاہم بجٹ میں مختص وسائل اور پالیسی اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں کو درپیش سنگین چیلنجز کے مقابلے میں حکومتی سرمایہ کاری اب بھی محدود ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی حکومت بچوں کی تعلیم، چائلڈ لیبر کے خاتمے، سٹریٹ چلڈرن کی بحالی اور چائلڈ پروٹیکشن نظام کے استحکام کے لیے زیادہ وسائل مختص کرے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کا مستقبل اس کے بچوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک خیبر پختونخوا اپنے لاکھوں بچوں کی تعلیم، تحفظ اور فلاح پر مؤثر سرمایہ کاری نہیں کرتا، پائیدار ترقی اور خوشحالی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔