ضلع حسن خیل کے پسماندہ علاقوں موسہ درہ، پستونے بوڑہ اور فریدی پخی میں ترقی کے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، بنیادی سہولیات کی کمی اور تعلیمی اداروں کا فقدان آج بھی علاقے کے عوام کا مقدر بنا ہوا ہے۔
مقامی آبادی کے مطابق ان علاقوں میں بچیوں کی تعلیم کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ بیشتر سرکاری اسکول صرف پرائمری سطح تک محدود ہیں جبکہ مڈل اور ہائی اسکول موجود نہیں۔ نتیجتاً سینکڑوں بچیاں پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہو جاتی ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ موسہ درہ، پستونے بوڑہ اور فریدی پخی میں آج تک ایک بھی گرلز مڈل یا ہائی اسکول قائم نہیں کیا جا سکا۔ اگرچہ ترقی اور عوامی خدمت کے دعوے ہر انتخابی مہم کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن عملی طور پر تعلیمی سہولیات کی فراہمی پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
مقامی افراد کے مطابق بچیوں کی تعلیم سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے کیونکہ پرائمری سطح کے بعد قریبی علاقوں میں مناسب تعلیمی ادارے موجود نہیں۔ اس وجہ سے اکثر طالبات تعلیم کا سلسلہ ترک کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں اور ان کے تعلیمی خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
علاقے میں اساتذہ کی کمی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ مقامی سطح پر بی اے اور ماسٹر ڈگری رکھنے والے اہل نوجوانوں کو بطور اساتذہ بھرتی کیا جائے تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو اور اسکولوں میں اساتذہ کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی اساتذہ نہ صرف باقاعدگی سے فرائض انجام دے سکتے ہیں بلکہ طلبہ اور والدین کے ساتھ بہتر رابطہ بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے یہ شکایت بھی کی کہ بعض دور دراز علاقوں سے تعینات اساتذہ کی حاضری ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں میں اساتذہ کے نام تو موجود ہیں، لیکن عملی طور پر ان کی حاضری بہت کم دیکھی جاتی ہے، جس سے تدریسی عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ وہ برسوں سے اپنے مسائل کے حل کے لیے درخواستیں دیتے اور متعلقہ حکام سے رجوع کرتے آ رہے ہیں، مگر ان کی آواز مؤثر حلقوں تک نہیں پہنچ رہی۔ والدین پریشان ہیں، بچے بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن عملی اقدامات کا فقدان بدستور برقرار ہے۔
عوام نے منتخب نمائندوں اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سیاسی نعروں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ موسہ درہ، پستونے بوڑہ اور فریدی پخی میں فوری طور پر مڈل اور ہائی اسکول قائم کیے جائیں، اساتذہ کی کمی دور کی جائے اور بچیوں کے لیے معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ علاقے کی تعلیمی پسماندگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم کے دوران نمائندے ہر گاؤں، حجرے اور گھر کا راستہ جانتے ہیں، لیکن کامیابی کے بعد عوامی مسائل ان کی ترجیحات میں شامل نہیں رہتے۔ ان کے مطابق حسن خیل کے پسماندہ علاقوں کو بھی اسی بے توجہی کا سامنا ہے، جس کا خمیازہ نئی نسل کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
