موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک سائنسی اصطلاح نہیں رہی بلکہ یہ ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے، جس کے اثرات دنیا کے ہر خطے میں مختلف انداز سے نمایاں ہو رہے ہیں۔ پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، اور خیبر پختونخوا کا خوبصورت خطہ ہزارہ ڈویژن بھی اس سنگین بحران کی زد میں ہے۔ حالیہ برسوں میں ہزارہ میں موسمی پیٹرن کی غیر معمولی تبدیلی نے زراعت، معیشت اور مقامی آبادی کی روزمرہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
ہزارہ ڈویژن اور موسمیاتی تبدیلی
ہزارہ ڈویژن اپنی زرخیز زمین، معتدل موسم اور زرعی پیداوار کے باعث ہمیشہ سے ایک اہم زرعی خطہ رہا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں درجہ حرارت میں غیر متوقع تبدیلی، بارشوں کے نظام میں بگاڑ، سردی کے دورانیے میں اضافہ اور اچانک آنے والے سیلابوں نے اس خطے کی زرعی بنیادوں کو کمزور کر دیا ہے۔ وہ علاقے جہاں زراعت کا انحصار دریائی پانی پر تھا، اب شدید نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔
سیلاب اور زرعی زمین کی تباہی
ہزارہ کے متعدد علاقوں میں حالیہ سیلابوں نے فصلوں، زرعی زمین اور آبپاشی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ دریاؤں سے منسلک زرعی زمینیں، جو کبھی اناج اور سبزیوں کی بڑی پیداوار کا ذریعہ تھیں، اب بار بار آنے والے سیلابوں کی وجہ سے بنجر ہوتی جا رہی ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ فصل کاشت کرنے سے پہلے ہی سیلاب آ جاتا ہے، جس سے محنت، سرمایہ اور وقت سب ضائع ہو جاتا ہے۔
گندم کی پیداوار میں خطرناک کمی
گندم پاکستان کی بنیادی غذائی فصل ہے اور ہزارہ ڈویژن ماضی میں گندم کی بہتر پیداوار کے لیے جانا جاتا تھا۔ تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث سردی کے موسم میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ مارچ اور اپریل جیسے مہینوں میں بھی سردی کی شدت برقرار رہنے سے گندم کی کاشت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کسان اس غیر یقینی موسم کے باعث گندم کاشت کرنے سے ہچکچا رہے ہیں، جس کا براہِ راست اثر ملکی غذائی تحفظ پر پڑ سکتا ہے۔
پھلوں کی پیداوار، خاص طور پر سیب، شدید متاثر
ہزارہ ڈویژن خاص طور پر معیاری سیب کی پیداوار کے لیے مشہور رہا ہے۔ مگر حالیہ برسوں میں سرد موسم کی شدت اور غیر متوازن موسمی حالات نے سیب کی فصل کو تقریباً ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ وہ باغات جو کبھی مقامی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھے، اب یا تو غیر فعال ہو چکے ہیں یا پیداوار نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے، جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔
حکومتی اور عوامی سطح پر اقدامات کا فقدان
تشویشناک امر یہ ہے کہ ہزارہ ڈویژن میں موسمیاتی تبدیلی اور زراعت میں کمی کے مسئلے پر نہ تو حکومتی سطح پر کوئی مؤثر اور جامع حکمتِ عملی نظر آتی ہے اور نہ ہی عوامی سطح پر اس بحران سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نہ جدید زرعی تحقیق متعارف کروائی گئی ہے اور نہ ہی کسانوں کو نئے موسمی حالات کے مطابق کاشتکاری کے طریقے سکھائے جا رہے ہیں۔
مستقبل کے خطرات اور فوری ضرورت
ماہرین کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کو مستقبل میں شدید غذائی قلت، زرعی بحران اور معاشی عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جدید زرعی طریقے، تحقیق، موسمی مزاحم فصلیں اور ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان، بالخصوص ہزارہ ڈویژن، کو بھی فوری طور پر انہی خطوط پر کام کرنا ہوگا۔
نتیجہ
موسمیاتی تبدیلی ہزارہ ڈویژن کے لیے ایک خاموش مگر خطرناک چیلنج بن چکی ہے۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو زراعت کی مزید تباہی ناگزیر ہوگی، جس کے اثرات صرف کسانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کو متاثر کریں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، تحقیقی ادارے اور عوام مل کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں تاکہ مستقبل کی نسلوں کے لیے غذائی تحفظ اور پائیدار زراعت کو یقینی بنایا جا سکے۔
