خیبر کی تحصیل باڑہ میں ایک افسوسناک واقعے نے شادی کی خوشیوں کو غم میں بدل دیا۔ علاقے آکاخیل کے گل بشر کلے میں مینار گراؤنڈ کے قریب ایک کم عمر بچے کی لاش ملنے سے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور غم کی فضا قائم ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق جاں بحق بچے کی شناخت مہران ولد نور زاہد کے نام سے ہوئی ہے، جس کی عمر تقریباً 13 سال بتائی جا رہی ہے۔ وہ آکاخیل قبیلے کے درو اڈہ ایکسچینج کا رہائشی تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ مہران اپنے والدین کے ہمراہ گزشتہ روز مغل باز کلے میں ایک رشتہ دار کی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آیا تھا۔
اہلِ خانہ کے مطابق انہیں بچے کے لاپتہ ہونے کا فوری علم نہ ہو سکا۔ تاہم آج صبح مینار گراؤنڈ کے قریب ایک بچے کی لاش ملنے کی اطلاع ملی، جس کی شناخت بعد میں مہران کے طور پر ہوئی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے اسے قتل کیا، جو ایک نہایت سفاکانہ واقعہ ہے۔
غم سے نڈھال اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ مقتول چھ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا اور ان کی کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز اور پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں شدید تشویش پھیل گئی۔ علاقائی مشران، لواحقین، سیاسی و سماجی شخصیات اور علمائے کرام نے اس اندوہناک واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او خیبر اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرکے انصاف فراہم کیا جا سکے۔
