گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں قائم حمزہ بابا افغان مہاجرین کیمپ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وطن واپس جانے والے افغان شہریوں کیلئے انتظامات اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران گورنر نے کیمپ میں موجود افغان مہاجرین سے ملاقات کی، ان کے مسائل سنے اور متعلقہ حکام کو فوری حل کیلئے ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے نادرا، ایف آئی اے، افغان کمشنریٹ اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے سہولیاتی کاؤنٹرز کا بھی معائنہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی خدمات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
گورنر خیبرپختونخوا نے پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ضم اضلاع میں تعینات عملے کو ہدایت کی کہ واپس جانے والے افغان مہاجرین کو طبی سہولیات، ہائجین کٹس اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی مزید بہتر بنائی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کیمپ میں افغان شہریوں کیلئے باقاعدہ ڈسپنسری بھی قائم کی جائے گی۔
حکام کی جانب سے دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ حمزہ بابا کیمپ اور ٹرانزٹ پوائنٹ فیز تھری سے قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد مہاجرین کو طورخم بارڈر روانہ کیا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے مہاجرین کو کھانے پینے اور رہائش کی سہولیات بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ کیمپ میں نادرا کے 22 رجسٹریشن کاؤنٹرز قائم ہیں، جبکہ پشاور، سندھ، پنجاب اور آزاد کشمیر سے آنے والے افغان خاندان بھی طورخم بارڈر کے ذریعے واپسی کیلئے یہاں موجود ہیں۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان، خصوصاً خیبرپختونخوا، نے طویل عرصے تک افغان بھائیوں کی میزبانی کی ہے، اس لیے ان کی باعزت واپسی کیلئے ہر ممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے لنڈی کوتل کے مقامی افراد کی مہمان نوازی کو بھی سراہا۔
اس موقع پر ڈپٹی کمشنر خیبر کیپٹن (ر) بلال راؤ، کمشنر افغان مہاجرین شکیل احمد صافی، چیئرمین پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی ضم اضلاع عمران وزیر سمیت مختلف اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
