پشاور: پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم آئینی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے پولیس کو زیرِ سماعت دیوانی مقدمے میں مداخلت سے روک دیا اور درخواست گزار کو ہراساں کرنے سے باز رہنے کی ہدایت جاری کر دی۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس فرح جمشید نے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ مقامی پولیس، جن میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او جاوید مروت، ڈی ایس پی احسان مروت اور اے ایس ایچ او فضل جان شامل ہیں، ایک ایسے معاملے میں مداخلت کر رہی ہے جو پہلے ہی مجاز دیوانی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اور انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ مذکورہ معاملہ واقعی عدالت میں زیرِ سماعت ہے، لہٰذا پولیس کی مداخلت اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کے پابند ہیں اور وہ دیوانی معاملات میں ثالث یا فیصلہ ساز کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔
عدالت نے مزید کہا کہ سی سی پی او کو دی گئی کسی درخواست کی بنیاد پر پولیس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ زیرِ سماعت دیوانی تنازع میں مداخلت کرے۔ تاہم، اگر کوئی الگ اور قابلِ تعزیر شکایت سامنے آئے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
فیصلے میں پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ وہ درخواست گزار کو ہراساں کرنے سے گریز کریں اور قانون کے مطابق عمل کریں، بصورتِ دیگر وہ اپنے اقدامات کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ عدالت نے ان ہدایات کے ساتھ درخواست نمٹا دی۔
