جنوبی وزیرستان اپر کی تحصیل کانی گرم میں سونے کے ممکنہ ذخائر کی تلاش کے معاملے پر اتوار کے روز محسود قبیلے کی دو ذیلی شاخوں، ملکشائی اور نظرخیل، کے درمیان شدید تصادم پیش آیا۔

عینی شاہدین کے مطابق جھگڑا اس وقت شروع ہوا جب ایک فریق نے علاقے کی ملکیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مذکورہ مقام ان کی حدود میں آتا ہے اور سونے کی تلاش کا حق صرف انہیں حاصل ہے۔ تلخ جملوں کے تبادلے نے جلد ہی ہاتھا پائی اور پھر پرتشدد جھڑپ کی شکل اختیار کر لی۔

مقامی افراد کے مطابق تصادم کے دوران خنجروں اور پتھروں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق واقعے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوئے، جن میں گلبدین محسود اور فردوس محسود بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے سی ایچ سی لوئر کانی گرم منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال وانا ریفر کر دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر جنوبی وزیرستان اپر، ارشد خان کے مطابق تھانہ لدھا، مکین اور کانی گرم چوکی کی بھاری نفری نے موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو میں کر لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مزید خون خرابہ روکنے کے لیے دونوں فریقین کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب قبائلی عمائدین بھی متحرک ہو گئے ہیں اور فریقین کے درمیان صلح کی کوششیں جاری ہیں تاکہ تنازع مزید نہ بڑھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں اور دونوں فریقین کو تھانہ لدھا طلب کر لیا گیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ تنازع زمین کی ملکیت اور سونے کی تلاش کے حق سے متعلق تھا، جو شدت اختیار کر کے پرتشدد شکل اختیار کر گیا۔