خیبرپختونخوا اور ضم شدہ اضلاع میں مختلف مقدمات میں گرفتار ہونے کے بعد عدالتوں سے بری یا رہا ہونے والے شہریوں کو سرکاری دستاویزات، خصوصاً کریکٹر سرٹیفکیٹ کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود متعلقہ ریکارڈ بروقت اپڈیٹ نہ ہونے کے باعث شہریوں کو بار بار پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ کئی افراد عدالتوں سے باعزت بری یا رہائی پانے کے باوجود جب سہولت کار مراکز یا تھانوں سے کریکٹر سرٹیفکیٹ یا دیگر دستاویزات حاصل کرنے جاتے ہیں تو وہاں موجود عملہ انہیں یہ کہہ کر واپس بھیج دیتا ہے کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہے۔
شہریوں کے مطابق بعض کیسز میں دو سے تین سال یا کئی ماہ گزرنے کے باوجود ریکارڈ میں اصلاح نہیں کی جاتی، جس کے باعث ان کی روزمرہ زندگی، روزگار اور دیگر امور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
عوامی حلقوں نے اس صورتحال کو انتظامی غفلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف عدالتیں شہریوں کو ریلیف فراہم کرتی ہیں، جبکہ دوسری جانب پولیس اور متعلقہ اداروں کے ریکارڈ اپڈیٹ نہ ہونے کے باعث وہی افراد دوبارہ مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ تضاد نہ صرف شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ حکومتی نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
شہریوں اور سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا، معزز جج صاحبان، کمشنر پشاور اور سی سی پی او پشاور سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ایک مؤثر نظام وضع کیا جائے جس کے تحت عدالتی فیصلوں کے بعد پولیس ریکارڈ بروقت اپڈیٹ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ سہولت کار مراکز اور تھانوں کو واضح ہدایات جاری کی جائیں تاکہ عدالتوں سے رہائی پانے والے افراد کو بلاوجہ تنگ نہ کیا جائے اور انہیں کریکٹر سرٹیفکیٹ سمیت دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول میں آسانی فراہم کی جا سکے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نظام میں بہتری سے نہ صرف شہریوں کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ اداروں پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا۔
