جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے اعظم ورسک میں پالے چوک روڈ کی بندش کے مسئلے پر سیاسی رہنماؤں، قبائلی عمائدین اور مقامی شخصیات نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سڑک فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کر دیا، جبکہ آئندہ جمعہ کے روز اعظم ورسک بازار میں جرگہ طلب کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
تحصیل وانا کے علاقے رستم بازار میں ہونے والے ایک اہم مشاورتی اجلاس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور قبائلی عمائدین نے شرکت کی، جہاں اعظم ورسک روڈ کی بندش پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور اس مسئلے کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں متفقہ طور پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے مطالبہ کیا گیا کہ پالے چوک کے مقام پر کم از کم پانچ گز سڑک فوری طور پر ٹریفک کے لیے کھولی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سڑک کی بندش نے نہ صرف معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ آمدورفت کا نظام بھی بری طرح درہم برہم ہو چکا ہے۔
اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی جنرل سیکرٹری عمران مخلص، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر اسداللہ، اور سابق صوبائی اسمبلی کے آزاد امیدوار تاج وزیر سمیت دیگر عمائدین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بارشوں اور ممکنہ سیلابی صورتحال میں یہ مسئلہ مزید شدت اختیار کر لیتا ہے۔ متبادل راستہ کچا ہونے کے باعث بارش کے دنوں میں ناقابلِ استعمال ہو جاتا ہے، جس سے طلبہ، مریضوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عنقریب پھلوں اور سبزیوں کا سیزن شروع ہونے والا ہے، جبکہ اعظم ورسک میں تقریباً 70 فیصد زرعی پیداوار اسی شعبے سے وابستہ ہے۔ سڑک کی بندش سے نہ صرف مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے بلکہ کاشتکاروں کو بھی شدید نقصان کا خدشہ ہے، اس لیے فوری طور پر سڑک کو کھولا جانا ناگزیر ہے۔
اجلاس کے شرکاء نے نشاندہی کی کہ سڑک بند ہونے کے باعث کئی مرتبہ مریضوں کو بروقت ہسپتال منتقل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جبکہ طلبہ اور عام شہریوں کو بھی روزمرہ امور میں شدید رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عوامی مسائل کا فوری نوٹس لے کر عملی اقدامات کیے جائیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر حکام نے فوری پیش رفت نہ کی تو آئندہ جمعہ اعظم ورسک بازار میں ایک بڑا جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین اور مقامی افراد کو مدعو کیا جائے گا تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے۔ شرکاء نے واضح کیا کہ وہ اپنے حقوق کے حصول کے لیے آئینی اور پرامن راستہ اختیار کریں گے۔
مزید برآں، تحصیل برمل کے مختلف علاقوں میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ امن و استحکام کے بغیر ترقی ممکن نہیں، لہٰذا حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری اور مؤثر اقدامات کریں تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقے کے مسائل کے حل کے لیے متحد رہیں گے اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
