ضلع خیبر کی تحصیل لنڈی کوتل کے علاقے شلمان سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ناہید نے اپنے والد ڈاکٹر محمد صادق کے ہمراہ جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران الزام عائد کیا ہے کہ ان کے سابق شوہر، حاضر سروس لیفٹیننٹ کرنل عابد الرحمان، عدالتی فیصلے کے باوجود بچوں کو ان کے حوالے نہیں کر رہے۔
ڈاکٹر ناہید کے مطابق ان کی شادی پندرہ سال قبل ہوئی، جس سے ان کے دو بچے ہیں جن کی عمریں گیارہ اور نو سال ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چند سال قبل ایک حادثے کے نتیجے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی متاثر ہوئی، جس کے باعث وہ ویل چیئر تک محدود ہو گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ان کے شوہر کا رویہ بدل گیا، انہیں ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا اور بچوں سے الگ کر دیا گیا۔ مزید یہ کہ انہیں بچوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور بچوں کے ذہنوں میں ان کے خلاف منفی تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان پر بے بنیاد الزامات بھی عائد کیے گئے، جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ حکام سے رجوع کیا جہاں سے انہیں عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ ان کے مطابق عدالتی کارروائی کے دوران بھی ان کے سابق شوہر کا رویہ نامناسب رہا۔
ڈاکٹر ناہید نے کہا کہ ان کی خلع ہو چکی ہے اور عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے بچوں کو ان کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے، تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، جو کہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم پاکستان، عسکری قیادت اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور بچوں کو فوری طور پر ان کے حوالے کیا جائے۔
