خیبرپختونخوا میں پولیو اب بھی ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ ہے، حالانکہ دنیا کے کئی ممالک اس بیماری پر بڑی حد تک قابو پا چکے ہیں۔ پولیو ایک خطرناک اور لاعلاج مرض ہے جو زیادہ تر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور عمر بھر کی معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ وائرس انسانی اعصابی نظام پر حملہ کرتا ہے اور بعض صورتوں میں مستقل فالج پیدا کر دیتا ہے، جس سے بچے کی زندگی ہمیشہ کے لیے متاثر ہو سکتی ہے۔

صوبہ خیبرپختونخوا میں خاص طور پر جنوبی اضلاع اور دور دراز علاقوں میں پولیو کے کیسز سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس کی بڑی وجوہات میں سکیورٹی چیلنجز، صحت کی سہولیات تک محدود رسائی، اور بعض علاقوں میں آگاہی کی کمی شامل ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ پولیو وائرس ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور اس کے خلاف مسلسل اور مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ اسی لیے یہاں انسدادِ پولیو پروگرام کو خاص طور پر فعال رکھا جاتا ہے تاکہ ہر بچے تک ویکسین کی رسائی یقینی بنائی جا سکے۔

پولیو وائرس عام طور پر آلودہ پانی یا خوراک کے استعمال، گندے ہاتھوں اور غیر صحت بخش ماحول، اور متاثرہ افراد کے قریبی رابطے سے پھیلتا ہے۔ یہ بیماری ان علاقوں میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے جہاں صفائی کا نظام کمزور ہو اور بنیادی سہولیات کی کمی ہو۔

پولیو سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ویکسین ہے۔ پولیو کے قطرے بچوں کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتے ہیں اور انہیں اس خطرناک وائرس سے محفوظ رکھتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پولیو ویکسین اس بیماری کے خاتمے کا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہر پانچ سال سے کم عمر بچے کو ہر مہم کے دوران پولیو کے قطرے پلائے جائیں، چاہے وہ پہلے بھی ویکسین لے چکا ہو، کیونکہ بار بار دی جانے والی خوراک ہی مکمل تحفظ فراہم کرتی ہے۔

اس کے باوجود صوبے میں پولیو کے خاتمے کی راہ میں کئی رکاوٹیں موجود ہیں، جن میں دشوار گزار اور پہاڑی علاقے، بعض مقامات پر سکیورٹی مسائل، والدین میں پائی جانے والی غلط فہمیاں یا آگاہی کی کمی، اور بار بار ویکسین نہ لینے کا رجحان شامل ہیں۔ تاہم، ان چیلنجز کے باوجود صحت کے ادارے مسلسل گھر گھر جا کر مہمات چلا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی بچہ ویکسین سے محروم نہ رہ جائے۔

پولیو ایک خطرناک مگر قابلِ روک بیماری ہے، اور اس کے خاتمے میں والدین کا کردار انتہائی اہم ہے۔ ہر والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر پولیو مہم میں اپنے بچوں کو قطرے ضرور پلائیں، پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، اور اپنے اردگرد کے لوگوں میں بھی آگاہی پھیلائیں۔

پولیو کا خاتمہ صرف حکومت یا صحت کے اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ اگر ہر والدین اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور اپنے بچوں کو باقاعدگی سے ویکسین دلائیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جہاں پولیو کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ اپنے بچوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کے لیے آج ہی فیصلہ کریں اور انہیں پولیو کے قطرے لازمی پلائیں۔